کراچی: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے والی حکومت مافیاز کی سرپرست بن چکی ہے۔
شہر قائد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے نظام کو تحفے کے طور پر گلگت بلتستان تک پھیلا دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فارم 47 کے تحت اقتدار میں آنے والی جماعتیں عوامی مسائل حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت 2 روز بعد نیا بجٹ پیش کر رہی ہے لیکن عوام کو ریلیف دینے کے بجائے مزید مشکلات میں ڈالا جا رہا ہے۔ حکمران اشرافیہ عوامی پیسوں سے اپنی عیاشیاں جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ ایف بی آر جیسے اداروں میں اربوں کی کرپشن ہو رہی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ پیٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے معیشت کا پہیہ رک چکا ہے۔ شوگر مافیا پیپلز پارٹی اور ن لیگ دونوں کا حصہ ہے جو مل کر عوام کو لوٹ رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بجلی اور ایندھن کی قیمتیں فوری کم کی جائیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بجٹ میں عوام کو ریلیف نہ دیا گیا تو جماعت اسلامی ملک گیر ہڑتال کا اعلان کرے گی۔ حکمران طبقہ مافیاز کو تحفظ فراہم کرنے میں مصروف ہے، جس کی وجہ سے مہنگائی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا اور عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔
کراچی کے پانی کے شدید بحران پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہر میں ہفتوں پانی نہیں ملتا ۔ کے فور منصوبہ تاحال مکمل نہ ہو سکا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہیں، اس لیے کراچی کے شہری اب اپنے مسائل کا حل خود تلاش کرنے پر مجبور ہیں۔
آخر میں انہوں نے بحری قذاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانی شہریوں کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ 17 پاکستانی شہری کسمپرسی کی حالت میں قید ہیں جبکہ وزارت خارجہ اس سنگین معاملے پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ حکومت فوری طور پر ان شہریوں کی بازیابی کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے۔