وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ شہریوں کو عالمی سطح پرایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات سے بچانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے آج سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے مشرق وسطی کے تنازع کے ابتدائی مرحلے میں تین ہفتوں کے دوران پیٹرولیم مصنوعات پرایک سو انتیس ارب روپے کی اعانت دی تھی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے بعد میں ٹارگٹڈ سبسڈی ماڈل کی طرف منتقلی کو یقینی بنایا تاکہ اس کے فوائد براہ راست عوام تک پہنچائے جاسکیں۔
انہوں نے کہا کہ اس ٹارگٹڈ ریلیف نے بالخصوص موٹر سائیکل سواروں، ٹرانسپورٹ کے شعبے اور چھوٹے کسانوں کو تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ تقریبا آٹھ لاکھ موٹر سائیکل سوار پہلے ہی اس اقدام سے مستفید ہوچکے ہیں جن میں اب تک انتہائی شفاف عمل کے ذریعے ایک ارب ترپن کروڑ روپے تقسیم کیے گئے ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ موجودہ حکومت کی کوششوں کے تحت ایف بی آر کے محاصل دوگنا ہوگئے جو سات ٹریلین سے بڑھ کر تیرہ ٹریلین تک پہنچ گئے ۔
دریں اثنا وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثنا اللہ نے آزاد جموں وکشمیر کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن بدقسمتی سے کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے تشدد کا راستہ اختیار کیا۔
انہوں نے کہا کہ صدارتی ریفرنس پر آزاد جموں و کشمیر کی سپریم کورٹ کی رائے نے بھی احتجاج کی سیاست کو مسترد کرتے ہوئے مہاجرین کی نشستوں پر حکومتی موقف کی توثیق کی ہے۔
مشیر نے مزید کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کی حکومت بھارتی کٹھ پتلیوں سے قانون کے مطابق نمٹے گی۔ سینیٹ نے آج پانچ بلوں کی منظوری دی۔
ان میں موشن پکچرزترمیمی بل 2024، ٹریول ایجنسیز ترمیمی بل 2026، پاکستان ٹورسٹ گائیڈز ترمیمی بل 2026، پاکستان ہوٹلز اینڈ ریسٹورنٹس ترمیمی بل 2026 اور پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کارپوریشن تبدیل وتنسیخ بل 2026 شامل ہیں۔ ایوان کا اجلاس اب جمعہ کی شام ساڑھے پانچ بجے ہوگا۔