ڈیٹا پرائیویسی سے متعلق جھوٹ، میٹا کو اب تک کا سب سے بڑا جرمانہ

صارفین کے ڈیٹا کی رازداری کے حوالے سے ‘جھوٹ’ بولنے پر میٹا (Meta) پر 25 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کر دیا گیا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کی مالک کمپنی ‘میٹا’ کو اس کے کاروباری طریقوں کی پاداش میں اب تک کا سب سے بڑا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

نیو میکسیکو کے ایک جج نے بدھ کے روز کمپنی کو 25 ارب ڈالر (18.6 ارب برطانوی پاؤنڈ) ادا کرنے کا حکم دیا۔

یہ فیصلہ رواں سال کے اوائل میں ہونے والی دو ہفتوں کی عدالتی کارروائی کے بعد سنایا گیا، جس میں یہ بات سامنے آئی کہ کمپنی برسوں تک عوام سے اس بارے میں جھوٹ بولتی رہی کہ وہ فیس بک صارفین کے ڈیٹا کو کس طرح استعمال کرتی ہے۔

جج نے کہا کہ یہ جھوٹ صرف فیس بک کے ڈیٹا سے متعلق امور تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ ان کا تعلق "فیس بک کے بنیادی کاروباری طریقوں کی جڑ” سے ہے۔

یہ میٹا پر عائد کیا جانے والا اب تک کا سب سے بڑا جرمانہ ہے۔ کمپنی کو رواں سال دیگر کئی مقدمات میں بھی جرمانے ہوئے ہیں یا اس نے تصفیے کے لیے معاہدے کیے ہیں۔

ان میں بچوں کی حفاظت سے متعلق کیلیفورنیا کے ساتھ کیا گیا 18 ارب ڈالر کا معاہدہ بھی شامل ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں