امجد مجید اولکھ کی ٹی وی پروگرام میں شرکت، منی لانڈرنگ کے 64 کیسز زیرِ تفتیش، کچھ موجودہ اراکین پارلیمنٹ کیخلاف ہیں
خیبرپختونخوا، سندھ اور پنجاب میں اربوں کی کرپشن کی تحقیقات جاری ہیں، چیئرمین نیب
قومی احتساب بیورو (نیب) کے ڈائریکٹر جنرل امجد مجید اولکھ نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ہائی پروفائل کرپشن کیسز، ریکوریز اور نیب کی کارروائیوں سے متعلق اہم انکشافات کیے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ نیب کے لیے موجودہ یا سابقہ حکومت کی کوئی تخصیص نہیں ہے، بلکہ جہاں ٹھوس شواہد موجود ہوں، قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاناما کے کیسز بند ہوچکے ہیں
ڈی جی نیب نے ان کرپشن کیسز کی تفصیلات بتائیں۔
خیبر پختونخوا کے کرپشن اسکینڈلز
کے پی سٹیز امپروومنٹ پروجیکٹ کے حوالے سے ڈی جی نیب نے بتایا کہ 2017 میں ایشین ڈویلپمنٹ بینک (ADB) کے تعاون سے پشاور، ایبٹ آباد اور مردان کے لیے 32 بلین روپے سے شروع ہونے والے اس پروجیکٹ میں بغیر کسی سٹڈی کے کوہاٹ اور منگورا شہر بھی شامل کر لیے گئے۔ اس طرح پروجیکٹ کا فنانشل حجم 64 بلین اور بعد میں تخمینہ بڑھا کر 74 ارب روپے کر دیا گیا۔ فارنزیک آڈٹ کے دوران انکشاف ہوا کہ کاغذات میں 50 فیصد تک مکمل دکھائے جانے والے پروجیکٹس گراؤنڈ پر محض 20 سے 25 فیصد مکمل اور انتہائی غیر معیاری ہیں، یا کئی جگہوں پر موجود ہی نہیں۔ اس کے علاوہ 17 بلین روپے کی ایسی ادائیگیاں بھی سامنے آئیں جن سے متعلقہ پارٹیز نے مکمل لاتعلقی کا اظہار کیا کہ انہوں نے نہ کوئی انوائس جاری کی اور نہ کوئی کام کیا۔
امجد مجید اولکھ نے اپر کوہستان ٹریژری فراڈ کے حوالے سے بتایا کہ صوبائی خزانے کو 37 ارب روپے کا نقصان پہنچانے کے اس کیس میں مواصلات و تعمیرات (C&W) ڈیپارٹمنٹ اور ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفس اپر کوہستان کی ملی بھگت سے فراڈ کیا گیا۔ 1200 بینک اکاؤنٹس کے فارنزیک آڈٹ کے بعد سرکاری افسران سمیت 142 افراد کو ملزم ٹھہرایا گیا ہے، جن میں موجودہ اسمبلی کا حصہ بننے والے افراد بھی شامل ہیں۔
سندھ اور پنجاب میں زمینوں کی غیر قانونی الاٹمنٹس
بحریہ پروجیکٹ (سندھ) کے حوالے سے ڈی جی نیب کا کہنا تھا کہ ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی 18 ہزار ایکڑ اراضی کسی بھی قانونی ضابطے یا زمین کے بدلے زمین (سویپنگ) کی شرط کے بغیر پرائیویٹ ڈویلپر کو دینے کے معاملے پر احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کر دیا گیا ہے۔ 787 بلین روپے مالیت کے اس کیس میں 33 ملزمان نامزد ہیں، جن میں موجودہ حکومت کے دور کے بااثر لوگ بھی شامل ہیں۔ ملک ریاض کے حوالے سے ڈی جی نیب نے واضح کیا کہ وہ مفرور اور اشتہاری قرار دیے جا چکے ہیں، اگر وہ اس کیس سے نکلنا چاہتے ہیں تو انہیں ملک واپس آ کر عدالت میں اپنے کیس کا دفاع کرنا ہوگا۔
ڈی جی نیب نے پنجاب میں بھی بحریہ گولف پروجیکٹ کی تفصیلات بتائیں جہاں ان کے بقول راولپنڈی میں 5500 کنال سرکاری اور جنگلات کی زمین پر بحریہ گولف پروجیکٹ بنانے کے معاملے پر احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کر دیا گیا ہے۔ 152 بلین روپے کی اس ذمہ داری (لائبلٹی) کے کیس میں بورڈ آف ریونیو کے افسران سمیت پرانے اور موجودہ دور کے سابق وزرائے اعلیٰ بھی ملزم کے طور پر ٹرائل کا سامنا کر رہے ہیں۔
منی لانڈرنگ اور قانونی کارروائیاں
امجد مجید اولکھ نے بتایا کہ نیب کے پاس اس وقت تقریباً 64 منی لانڈرنگ کے کیسز زیرِ تفتیش ہیں، جن میں عدالت کے احکامات کے تحت تقریباً 180 بلین روپے کی جائیدادیں اٹیچ کی گئی ہیں۔ ان میں کئی سیاستدان بھی شامل ہیں جو اس وقت بھی پارلیمنٹ کا حصہ ہیں۔
پاناما کے مقدمات کے حوالے سے نیب عہدیدار نے بتایا کہ 2023 میں پارلیمنٹ کی جانب سے نیب قوانین میں کی جانے والی ترامیم اور سپیریئر کورٹس کے فیصلوں کی روشنی میں وہ تمام حقائق اور شواہد قانونی طور پر میرٹ پر ختم (کوئش) ہو چکے ہیں۔
ڈی جی نیب نیب نے اس بات پر زور دیا کہ نیب نے “نیمنگ اینڈ شیمنگ” (نام لے کر بدنام کرنے) کے پرانے تصور کو ختم کر دیا ہے، اور اب جب تک کسی پبلک آفس ہولڈر کے خلاف کیس باقاعدہ عدالت میں داخل نہیں ہو جاتا، کسی کا نام عوامی سطح پر نہیں لیا جاتا۔