کابینہ توسیع کے بعد حکومتی کارکردگی اور جوابدہی میں اضافہ ہوگا: نائب وزیر اعلیٰ

سری نگر/جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے کہا ہے کہ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کی کابینہ میں توسیع کا وعدہ پہلے ہی کیا گیا تھا، جسے اب پورا کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اب پارٹی سے جموں و کشمیر کے لوگوں، بالخصوص کشمیریوں، پر بیرونِ ریاست ہونے والے حملوں کے بارے میں سوالات پوچھے جانے چاہئیں۔
لوک بھون آڈیٹوریم سری نگر میں کابینہ کے نئے وزراء کی حلف برداری کی تقریب کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے سریندر چودھری نے کہا کہ حکومت نے عوام سے کابینہ میں توسیع اور ردوبدل کا وعدہ کیا تھا، جسے اب عملی جامہ پہنایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’ہم نے لوگوں سے کہا تھا کہ کابینہ میں توسیع اور ردوبدل کریں گے، اب آپ خود دیکھ رہے ہیں کہ یہ ہو چکا ہے۔ اب بی جے پی کے لوگوں یا قائد حزب اختلاف سے سوالات پوچھیں۔ یا پھر آپ یہاں مٹھائیاں کھا کر واپس چلے جائیں گے؟‘‘
نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ علی محمد ساگر، میر سیف اللہ، شمیمہ فردوس اور الطاف احمد وانی جیسے سینئر رہنماؤں کی کابینہ میں شمولیت سے حکومت کی کارکردگی اور جوابدہی میں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا واحد مقصد جموں و کشمیر کے عوام کو فائدہ پہنچانا ہے اور اسی مقصد کے تحت وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کابینہ میں توسیع کی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اب توسیع کے معاملے کو چھوڑ کر حکومت کے کام کاج کے بارے میں سوالات کیے جانے چاہئیں۔
بی جے پی کی جانب سے کابینہ میں توسیع کو بے معنی قرار دینے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے چودھری نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ سے بی جے پی مسلسل کابینہ میں توسیع کا مطالبہ کر رہی تھی، لیکن اب جب یہ عمل مکمل ہو گیا ہے تو اس کا ایک مسئلہ ختم ہو چکا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کا کام لوگوں کو گمراہ کرنا اور سیاست کرنا ہے، کیونکہ اس کے پاس عوامی مسائل پر بات کرنے کے لیے کوئی ٹھوس معاملہ نہیں ہے۔
نائب وزیر اعلیٰ نے میڈیا سے اپیل کی کہ وہ قائد حزب اختلاف سنیل شرما سے بیرونِ ریاست جموں و کشمیر کے شہریوں، خصوصاً کشمیریوں، کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات پر سوالات کریں۔
انہوں نے کہا، ’’سنیل شرما صاحب سے پوچھیں کہ پورے ملک میں جموں و کشمیر کے لوگوں کو کیوں مارا پیٹا جاتا ہے؟ انہیں چن چن کر نشانہ کیوں بنایا جاتا ہے؟ کیا ایک دن میں بھی بی جے پی کے کسی رہنما نے اس معاملے پر آواز اٹھائی؟‘‘
چودھری نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگ اپنی مہمان نوازی کے لیے جانے جاتے ہیں، لیکن جب وہ روزگار کی تلاش میں بیرونِ ریاست جاتے ہیں اور وہاں ڈرائیور، شال فروش یا پھل فروش کے طور پر کام کرنے والے افراد پر حملے ہوتے ہیں تو اس سے تکلیف پہنچتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ لوگ اپنی روزی روٹی کمانے کے لیے دوسرے علاقوں کا رخ کرتے ہیں اور سب سے پہلے انسان ہیں، اس لیے ان کے ساتھ ہونے والے تشدد پر سوال اٹھانا ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کابینہ میں توسیع کا معاملہ اب ختم ہو چکا ہے، لہٰذا بی جے پی کو یہ وضاحت کرنی چاہیے کہ جموں و کشمیر کے لوگوں، بالخصوص کشمیریوں، کو دوسری ریاستوں میں کیوں نشانہ بنایا جاتا ہے۔
چودھری نے بی جے پی پر زور دیا کہ وہ نوجوانوں کو بدنام کرنے کے بجائے اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکامی تسلیم کرے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں