گوادر کے ساحلی پانیوں میں نایاب ڈولفنز کے بڑے غول کا مشاہدہ

ماہی گیروں کی خوشی، سمندری ماحولیاتی نظام کی بہتری کی علامت، ڈبلیو ڈبلیو ایف کی تصدیق۔

October 27, 2026 · اہم خبریں

گوادر کے ساحلی پانیوں میں دیکھی جانے والی نایاب ڈولفنز کا ایک منظر

گوادر کے ساحلی پانیوں میں دیکھی جانے والی نایاب ڈولفنز کا ایک منظر

گوادر کے ساحلی علاقوں بالخصوص ویسٹ بے کے پانیوں میں 500 سے زائد نایاب ڈولفنز کے ایک بہت بڑے غول کا مشاہدہ کیا گیا ہے، جس کی دلکش مناظر نے مقامی ماہی گیروں اور ماہرین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ ماہی گیر امیر داد خان نے اپنی کشتی کے قریب ڈولفنز کو پانی سے اچھلتے اور کھیلتے ہوئے دیکھا، جن کی اس غیر معمولی نقل و حرکت نے دیکھنے والوں کو حیران کر دیا۔

ماہرینِ ماحولیات اور ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان کے ساحلی اور سمندری پانیوں میں وہیلز اور ڈولفنز سمیت سیٹیشینز کی کل 26 اقسام پائی جاتی ہیں۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے تکنیکی مشیر محمد معظم خان نے اس واقعے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈولفنز کی اتنی بڑی تعداد میں موجودگی سمندری حیاتیاتی تنوع اور صحت مند غذائی زنجیر کا ایک انتہائی حوصلہ افزا اشارہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ خوش آئند علامت اس بات کی غماز ہے کہ ہمارا ساحلی ماحولیاتی نظام درست سمت میں گامزن ہے۔

ماہرین کے مطابق، ڈولفن کی یہ قسم بحیرہ عرب کے پانیوں میں پائی جاتی ہے اور اس کی موجودگی پاکستان کی سمندری حیات کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں کا ثمر ہے۔ ڈولفنز کے علاوہ سمندری کچھوے اور وہیلز بھی پاکستانی ساحلی پانیوں کی زینت ہیں جن کا تحفظ ماحولیاتی توازن کے لیے ناگزیر ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان ماہی گیروں اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر وفاقی اور صوبائی قوانین کے تحت ان نایاب سمندری جانداروں کے تحفظ کے لیے متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں