ایرانی رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری سے ملاقات

اہم بیٹھک، پالیسی سازی کا جائزہ، خطے میں تعاون پر زور

October 27, 2026 · اہم خبریں

تہران میں ایرانی رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای اور سیکرٹری سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی ملاقات کا منظر

تہران میں ایرانی رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای اور سیکرٹری سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی ملاقات کا منظر

تہران میں ایران کے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی کے درمیان اہم ملاقات ہوئی۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ایرانی سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل امور مملکت کی پالیسی سازی کا سنگ میل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ثقافت، سیاست، معیشت اور سیکیورٹی کے شعبوں میں باہمی ربط اور توازن کی اشد ضرورت ہے جبکہ مؤثر اور ٹھوس فیصلوں کے لیے واضح لائحہ عمل ناگزیر ہے۔

ملاقات کے دوران علاقائی سلامتی اور تزویراتی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے ہدایت کی کہ آبنائے ہرمز میں مؤثر کنٹرول کے ذریعے قومی اور علاقائی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے اور پائیدار مفادات کی بنیاد پر ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مزاحمت کے نتیجے میں دشمن کی بڑھتی ہوئی مایوسی کھل کر سامنے آچکی ہے، اس لیے ایرانی قوم اور محاذ مزاحمت کے لیے طے شدہ شرائط پر سختی سے عمل کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں جاری نہ جنگ نہ صلح کی موجودہ کیفیت کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں اور ایران کی اسٹریٹجک پالیسی کے تحت ایک مقامی علاقائی نظام کا قیام لازمی ہے۔

دوسری جانب، سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے تہران میں ہونے والے 4 ملکی اجلاس کے حوالے سے امید ظاہر کی ہے کہ یہ بیٹھک حقیقی تبدیلی اور عملی تعاون کا آغاز ثابت ہوگی۔ ایک انٹرویو میں محسن رضائی کا کہنا تھا کہ چاروں ممالک کے درمیان تعاون کا آغاز بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کا ماحول بہت اچھا رہا اور خطے میں ایک نئی فضا بنتی محسوس ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام رہنماؤں کا رویہ انتہائی مثبت تھا اور اس بات پر اتفاق پایا گیا کہ اگر چاروں ممالک متحد ہو جائیں تو خطے کے بہت سے مسائل باآسانی حل ہو سکتے ہیں۔

محسن رضائی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اسلامی کانفرنس اور دیگر اسلامی ممالک کی میٹنگز میں اس حوالے سے باقاعدگی سے بات چیت ہوتی رہی ہے لیکن بیرونی مداخلت کے باعث حقیقی اتحاد کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مکہ دفاعی اتحاد کے اعلیٰ حکام کے دورے نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اب امریکی دھمکیوں کا دنیا پر زیادہ اثر نہیں پڑتا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں