ترکیہ کی پارلیمانی کمیٹی نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی منظوری دیدی

اہم پیش رفت، چار فریقی اجلاس تہران میں ہوا، عاقبت اندیشانہ اقدامات پر اتفاق۔

October 27, 2026 · اہم خبریں

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے اور تہران میں منعقدہ چار فریقی اجلاس کی اہم عکاسی

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے اور تہران میں منعقدہ چار فریقی اجلاس کی اہم عکاسی

ترکیہ کی پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ اس بل کو اب حتمی توثیق کے لیے ترک پارلیمنٹ کے ایوان میں پیش کیا جائے گا۔ ترک حکومت کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ یہ دفاعی اشتراک کسی بھی ملک کے خلاف جارحیت کے لیے نہیں بلکہ صرف اور صرف دفاعی مقاصد کے تحت عمل میں لایا گیا ہے۔

ترکیہ کی پارلیمانی خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ اور حکمران جماعت کے رہنما فواد اوکتائے نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ مشرق وسطیٰ، روس یوکرین جنگ اور دیگر علاقائی خطوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی براہِ راست سلامتی پر اثرانداز ہو رہی ہے۔ دستخط شدہ دستاویز کے مطابق مکہ معاہدہ علاقائی ملکیت اور دفاعی صلاحیت کو مستحکم کرنے کی جانب ایک سنگ میل ہے جس کا مقصد خطے میں پائیدار امن کا قیام ہے۔

دریں اثنا، تہران میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور ایران کا ایک اہم چار فریقی اجلاس منعقد ہوا جس میں علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایرانی حکام کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اجلاس میں شرکا نے باہمی تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے انکشاف کیا کہ تہران میں اس 4 فریقی اجلاس کی تجویز پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے گزشتہ دورے کے دوران دی تھی جسے تہران نے پذیرائی بخشی۔

واضح رہے کہ اس اعلیٰ سطح کے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے کی جبکہ سعودی عرب کی جانب سے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان شریک ہوئے۔ ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی نے اس اجلاس کی میزبانی کی۔ اجلاس کے حوالے سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق The Supreme National Security Council members held a meeting with Chief of Army Staff of Pakistan Asim Munir and delegates from the nations taking part in the quadrilateral summit.

مزید برآں، ایرانی صدر نے اپنے بیان میں اس عزم کا اظہار کیا کہ Pezeshkian: Iran supports any agreement that strengthens unity among Islamic countries. تہران میں منعقد ہونے والے اس تاریخی اجلاس میں خطے کی موجودہ صورتحال اور سلامتی کے امور پر جامع بات چیت کی گئی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں