ٹرائل اور ہائیکورٹ سے ضمانت مسترد ہونے کے باوجود ملزم سپریم کورٹ کیسے پہنچ گیا، جسٹس شہزاد
سپریم کورٹ نے عدالت آنے والے ملزم کو گرفتار کرادیا، پنجاب پولیس پر برہمی
سپریم کورٹ نے چیک باؤنس کے ایک مقدمے میں پنجاب پولیس کی کارکردگی پر شدید سوالات اٹھاتے ہوئے برہمی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت عظمیٰ میں ملزم کی درخواست ضمانت پر سماعت کے دوران جسٹس ملک شہزاد نے استفسار کیا کہ جب ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ ملزم کی ضمانت مسترد کرچکی تھیں، تو اسے تاحال گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بغیر ضمانت کے ملزم سپریم کورٹ تک کیسے پہنچ گیا۔
دستاویزات کے مطابق سماعت کے دوران جسٹس ملک شہزاد نے پنجاب پولیس کے اہلکار کو مخاطب کرتے ہوئے طنزیہ ریمارکس دیئے کہ ایسی شاندار کارکردگی پر تو آپ کو آئی جی بنانے کی سفارش کی جانی چاہئے۔ اس موقع پر بینچ کے دوسرے رکن جسٹس شکیل احمد نے ریمارکس دیئے کہ یہ پنجاب پولیس کا معمول بن چکا ہے کہ ضمانت خارج ہونے کے باوجود ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جاتا، یہاں تک کہ قتل جیسے سنگین مقدمات میں بھی ضمانتیں مسترد ہونے کے باوجود ملزمان دندناتے پھرتے ہیں۔
عدالتی سرزنش کے بعد صورتحال بدل گئی اور جسٹس ملک شہزاد نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ خود کیس واپس لیں گے یا عدالت اسے میرٹ پر خارج کرے؟ عدالتی دباؤ پر ملزم نے پولیس کے سامنے سرنڈر کردیا، جس کے بعد ملزم کے وکیل نے درخواست ضمانت واپس لے لی۔ عدالت نے ملزم کے سرنڈر کرنے کی بنیاد پر درخواست ضمانت نمٹا دی۔