ابتدائی ایگزٹ پولز میں وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو کے اتحاد اور اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کے اتحاد کے درمیان سخت مقابلہ
اسرائیلی انتخابات، ووٹوں کی گنتی جاری، پولز کے مطابق نیتن یاہو کی حکومت خطرے میں پڑگئی
تل ابیب: اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے، ابتدائی ایگزٹ پولز میں وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو کے اتحاد اور اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کے اتحاد کے درمیان سخت مقابلہ سامنے آیا ہے، تاہم کسی بھی فریق کو حکومت بنانے کے لیے واضح اکثریت ملتی دکھائی نہیں دے رہی۔
ابتدائی انتخابی جائزوں میں سے دو میں اپوزیشن کے تبدیلی بلاک کو نیتن یاہو کے اتحاد کے مقابلے میں برتری حاصل ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ تیسرے ایگزٹ پول میں نیتن یاہو کا اتحاد معمولی سبقت لیتا دکھائی دیتا ہے۔ ان اندازوں کے باوجود دونوں فریق حکومت سازی کے لیے درکار نشستوں کی واضح اکثریت سے پیچھے ہیں۔
اپوزیشن کے تبدیلی بلاک کی قیادت گادی آئزنکوٹ کر رہے ہیں، جو نئی قائم ہونے والی یاشار پارٹی کے سربراہ ہیں۔ اس اتحاد میں شامل جماعتوں کا بنیادی مقصد نیتن یاہو کی حکومت کا خاتمہ اور اقتدار میں تبدیلی لانا ہے۔
دوسری جانب ایگزٹ پولز کے مطابق نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ پارلیمان میں سب سے بڑی انفرادی جماعت بن کر سامنے آ سکتی ہے۔ تاہم کسی ایک جماعت کی نشستوں کی تعداد اور مختلف سیاسی اتحادوں کی مجموعی طاقت حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔
اسرائیل کی پارلیمان، جسے کنیسٹ کہا جاتا ہے، مجموعی طور پر 120 نشستوں پر مشتمل ہے۔ حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 نشستوں کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ اسرائیل میں کسی ایک جماعت کے لیے تنہا واضح اکثریت حاصل کرنا ماضی میں بھی مشکل رہا ہے، جس کے باعث مختلف جماعتوں کو حکومت بنانے کے لیے اتحاد قائم کرنا پڑتا ہے۔
انتخابی نتائج میں چند نشستوں کا فرق بھی حکومت سازی کا نقشہ تبدیل کر سکتا ہے۔ اسی لیے ابتدائی ایگزٹ پولز کو حتمی نتیجہ قرار نہیں دیا جا رہا، جبکہ ماضی میں بعض مواقع پر ان اندازوں اور سرکاری نتائج کے درمیان فرق بھی سامنے آ چکا ہے۔
سرکاری نتائج کا اعلان شروع ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے میں مزید وقت لگنے کا امکان ہے۔ انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد مختلف جماعتوں کے درمیان مذاکرات بھی اہم مرحلہ ہوں گے، جن کے ذریعے حکومت سازی، ممکنہ اتحادیوں اور اقتدار میں شراکت سے متعلق فیصلے کیے جائیں گے۔
یہ انتخابات 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں اسرائیل پر ہونے والے حملوں کے بعد پہلے پارلیمانی انتخابات قرار دیے جا رہے ہیں۔ ان کے نتائج نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل، اسرائیل میں آئندہ حکومت کی تشکیل اور ملک کی داخلی و خارجہ پالیسیوں کی سمت کے حوالے سے اہمیت رکھتے ہیں۔