آپریشنز پر پابندی عائد- اسپتالوں کو احکامات جاری- کابل کے نور اسپتال پر پاک افغان ڈاکٹر انتظام کرتے تھے
کابل کے نور اسپتال پر پاک افغان ڈاکٹروں کی جانب سے آپریشن کا معلوماتی اشتہار
افغانستان کی طالبان حکومت نے ایک بڑا اور متنازع فیصلہ کرتے ہوئے افغانستان میں آنکھوں کے قورنیہ کی تبدیلی (Corneal Transplant) کے آپریشنز کو غیر اسلامی قرار دے کر ان پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد ملک بھر میں بینائی بچانے والے یہ اہم آپریشنز فوری طور پر روک دیے گئے ہیں، جس سے ہر سال سینکڑوں مریض ہمیشہ کے لیے بینائی سے محروم ہونے کے خطرے سے دوچار ہو گئے ہیں۔
طالبان حکام اور محکمہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے مطابق، انسانی اعضاء کی پیوند کاری اور ان کا ایک جسم سے دوسرے جسم میں منتقل ہونا اسلامی شریعہ کے اصولوں کے منافی ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ انسانی اعضاء کی خرید و فروخت یا منتقلی “انسانی وقار” کی خلاف ورزی ہے۔ اگرچہ دنیا کے بیشتر مسلم ممالک اور ممتاز اسلامی اسکالرز انسانی جان بچانے یا بینائی بحال کرنے کے لیے رضاکارانہ طور پر اعضاء کے عطیہ کرنے کو جائز قرار دیتے ہیں، تاہم طالبان کی مذہبی قیادت نے اس پر سخت موقف اپناتے ہوئے کسی بھی قسم کے طبی استثنیٰ کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق کابل اور جلال آباد کے بڑے آئی ہسپتالوں، بشمول کابل کے معروف ‘نور آئی ہسپتال’ کو انتظامی اور زبانی احکامات جاری کر دیے گئے ہیں کہ وہ قورنیہ کی منتقلی کے تمام پروگرامز فوری طور پر معطل کریں۔ ہسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ یہ احکامات ماننے پر مجبور ہیں کیونکہ حکم عدولی کی صورت میں انہیں سخت سزاؤں اور ہسپتالوں کی بندش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ واضح رہے کہ نور اسپتال پر پاک افغان ڈاکٹروں کی تنظیم پی اے سی ایف کے تحت آنکھوں کے آپریشن کیے جاتے تھے۔
افغانستان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری جنگ، بارودی سرنگوں کے دھماکوں، کارخانوں میں حادثات اور مختلف بیماریوں کی وجہ سے ہر سال سینکڑوں افراد، بالخصوص نوجوان، اپنی آنکھوں کا قورنیہ متاثر ہونے کی وجہ سے بینائی کھو بیٹھتے ہیں۔ بین الاقوامی طبی تنظیموں کے تعاون سے کابل اور جلال آباد میں یہ سرجریز کامیابی سے شروع کی گئی تھیں، لیکن اس اچانک پابندی کے بعد شیڈول آپریشنز منسوخ کر دیے گئے ہیں اور مریض شدید ذہنی و جسمانی اذیت کا شکار ہیں۔
شمالی امریکہ میں پاکستانی نژاد معالجین کی تنظیم (APPNA) اور دیگر بین الاقوامی طبی خیراتی اداروں نے افغان حکومت کے اس فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ طبی ماہرین نے طالبان قیادت سے اپیل کی ہے کہ وہ اس انسانی ہمدردی کے حامل طبی طریقہ کار پر نظرثانی کریں تاکہ جنگ زدہ ملک کے معصوم شہریوں کو عمر بھر کے اندھیرے سے بچایا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پابندی افغانستان کے پہلے سے بحران کا شکار نظامِ صحت کو مزید مفلوج کر دے گی۔