اسرائیل کے بیشتر رہنما یورپی یہودی رہے آئزنکوٹ پہلے افریقی یہودی وزیراعظم ہوں گے
گادی آئزنکوٹ
گادی آئزنکوٹ اسرائیل کی سیاست کا وہ نام ہیں جو اس وقت ملک کے سیاسی منظر نامے پر بینجمن نیتن یاہو کے سب سے مضبوط حریف اور اگلے ممکنہ وزیر اعظم کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ وہ اکتوبر 2026ء کے عام انتخابات میں نیتن یاہو کے دائیں بازو کے قوم پرست اتحاد کا مقابلہ کرنے کے لیے بنائے گئے اپوزیشن اتحاد کے مرکزی چہرے ہیں۔
اگرآئزنکوٹ حکومت سازی میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ اسرائیل کی تاریخ کے پہلے وزیر اعظم ہوں گے جن کا تعلق مراکشی نژاد “میزراحی” یہودی برادری سے ہوگا، جو ملکی سیاست میں ایک تاریخی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اسرائیل پر عام طور پر یورپ سے آنے والے یہودی اقتدار میں رہے ہیں اور یہ افریقی یہودیوں کے معاملے میں مسلمانوں سے زیادہ دشمنی رکھتے ہیں۔
آئزنکوٹ کا پس منظر خالصتاً فوجی ہے۔ وہ 1960ء میں اسرائیل کے شہر طبریا میں پیدا ہوئے اور انہوں نے اپنی زندگی کے 41 سال اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) میں گزارے۔ وہ 2015ء سے 2019ء تک اسرائیل کے 21ویں چیف آف اسٹاف رہے، جس کی وجہ سے انہیں اسرائیل کی سکیورٹی اور جنگی حکمتِ عملی پر غیر معمولی گرفت حاصل ہے۔
سیاست میں ان کا شمار ایک ایسے “ہاک” (سخت سکیورٹی پسند رہنما) کے طور پر ہوتا ہے جو جذباتی نعروں یا سیاسی بیانات کے بجائے نپی تلی فوجی منطق، خفیہ آپریشنز اور زمینی حقائق کے مطابق فیصلے کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔
آزاد فلسطینی ریاست کے مخالف یا مزدوروں پر موقف نرم
جہاں تک فلسطینیوں کے معاملے کا تعلق ہے، آئزنکوٹ کسی بھی صورت ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے حق میں نہیں ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ دریائے اردن سے بحیرہ روم تک سکیورٹی کا حتمی کنٹرول صرف اسرائیل کے پاس رہنا چاہیے۔
وہ حماس کے سخت ترین مخالف ہیں اور انہوں نے اقتدار میں آنے کے بعد 18 ماہ کے اندر حماس کے ملٹری ونگ کا مکمل خاتمہ کرنے کا عزم ظاہر کر رکھا ہے۔
تاہم، وہ نیتن یاہو کی نسبت زیادہ حقیقت پسندانہ اندازِ فکر رکھتے ہیں اور مغربی کنارے کے فلسطینی مزدوروں کو اسرائیل میں کام کی اجازت دینے کے حامی ہیں تاکہ معاشی استحکام کے ذریعے سکیورٹی کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔
ایران جنگ ٹھنڈی پڑنے کا امکان
ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور مستقبل میں جنگ تیز ہونے کے امکانات کے حوالے سے آئزنکوٹ کی حکمتِ عملی موجودہ حکومت سے نمایاں طور پر مختلف نظر آتی ہے۔ نیتن یاہو کے برعکس، آئزنکوٹ کا ماننا ہے کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی (رجیم چینج) ایک غیر حقیقی ہدف ہے اور اسے اسرائیل کا بنیادی مقصد نہیں ہونا چاہیے۔
اس لیے ان کے اقتدار میں آنے سے ایران کے ساتھ ایک ہمہ وقت یا براہ راست علاقائی جنگ کے تیز ہونے کا امکان کم ہو جائے گا۔ وہ اندھی فوجی طاقت کے استعمال کے بجائے ایران کے جوہری پروگرام اور میزائل سسٹم کو محدود کرنے کے لیے امریکی تعاون، موساد کی خفیہ کارروائیوں اور بین الاقوامی سفارت کاری کے امتزاج پر بھروسا کریں گے، جس سے خطے میں کسی بڑی تباہ کن جنگ کا خطرہ ٹل سکتا ہے۔