
وعدے کے باوجود تنخواہوں اور پنشن میں پندرہ فیصد اضافہ نہیں کیا گیا، مسئلہ جلد حل کروایا جائے
اگر حکومت سندھ کی کوتاہی ہے تو پھر وزیر اعلیٰ ہائوس کے سامنے دھرنا دیں گے، ذوالفقار شاہ کا خطاب
کراچی (اسٹاف رپورٹر) کے ایم سی کے سیکڑوں ملازمین اور پنشنرز نے کے ایم سی ہیڈ آفس میں واقع کے ایم سی کونسل ہال کے سامنے تنخواہوں اور پنشن میں 15 فیصد اضافے کی عدم ادائیگی کے خلاف بھرپور احتجاج کرتے ہوئے دو گھنٹے دھرنا دیا، اس موقع پر زبردست نعرے بازی کی گئی جوکہ وقفے وقفے سے جاری رہی۔ اس موقع پر دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سید ذوالفقار شاہ نے کہاکہ وعدے کے باوجود کے ایم سی ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنرز کی پنشن میں 15 فیصد اضافہ نہیں کیا گیا جس سے ملازمین میں سخت اشتعال پایا جاتا ہے۔ کونسل کے معزز اراکین کے علم میں یہ بات لانے کے لیے یہاں دھرنا دیا گیا کہ وہ کے ایم سی کونسل سے قرارداد منظور کروا کر 14 ہزار کے ایم سی ملازمین اور 22 ہزار پنشنرز کو ان کا جائز حق دلوائیں۔ اگر حکومت سندھ کی کوتاہی ہے تو پھر وزیراعلیٰ ہائوس کے سامنے دھرنا دیا جائے گا۔ اس دوران دھرنے کے شرکا کے درمیان پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے قائد حزب اختلاف کرم اللہ وقاصی، متحدہ کے پارلیمانی لیڈر اسلم آفریدی، مسلم لیگ نواز کے معزز اراکین، امان اللہ آفریدی، لالہ اورنگزیب جدون، تنویر جدون، جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر جنید مکاتی اور ڈپٹی میئر کراچی ارشد حسن نے ملازمین کو اپنے مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہاکہ اس مسئلے کو انسانی ہمدردی پر فوقیت دے کر حل کروایا جائے گا۔ اس دوران فنانشل ایڈوائزر کے ایم سی ڈاکٹر اصغر عباس شیخ نے دھرنے کے شرکا کو ٹیلی فون پر یقین دہانی کروائی کہ وعدے پر عملدرآمد کیا جائے گا اور دو روز کے بعد 15 فیصد اضافہ شدہ تنخواہ کی ادائیگی کروائی جائے گی جبکہ پنشنرز کو مرحلے وار اضافہ ادا کیا جائے گا۔ دھرنے سے پیپلز یونائیٹڈ کے صدر جاوید بلوچ، یونائیٹڈ ورکرز یونین کے جنرل سیکرٹری وارث گلناز، فائر بریگیڈ ویلفیئر کے شاہد قادری، مشینری پول کے صدر کیپٹن شبیر جدون اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔