
حکام کی عدم دلچسپی، ادارے کے لئے ریونیو جمع کرنے والے اہم محکموں کی آمدنی اور اخراجات میں مبینہ بدعنوانیاں
3 سال کے دوران بدعنوانی میں ملوث کسی بھی افسر کے خلاف کسی قسم کی قانونی کارروائی نہیں کی گئی، افسران کا مؤقف
کے ایم سی ملازمین گزشتہ 3 سال سے تنخواہوں میں اضافے اور مراعات کے منتظر ٗ نوبت فاقہ کشی تک آگئی
کراچی(اسٹاف رپورٹر)ملک کے سب سے بڑے بلدیاتی ادارے کے ایم سی کے ملازمین گزشتہ 3 سال سے تنخواہوں میں اضافے اور مراعات کے منتظر ہیں۔تفصیلات کے مطابق حکام کی عدم دلچسپی، ادارے کے لئے ریونیو جمع کرنے والے اہم محکموں کی آمدنی اور اخراجات میں مبینہ بدعنوانیوں نے ملک کے سب سے بڑے بلدیاتی ادارے کے ایم سی کو دیوالیہ کردیا ہے، تاریخ کے بدترین مالی بحران کے باعث افسران کا امپریس فنڈ بھی بند کردیا گیا ہے جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔ادارے کے سینئر افسران کا کہنا ہے کہ کے ایم سی چند منظور نظر بدعنوان افسران کو ٹھیکے پر دے دیا گیا ہے، جب کہ گزشتہ 3 سالوں کے دوران بدعنوانیوں کے باعث کے ایم سی کی مالی حالت اس قدر ابتر ہوچکی ہے کہ ملازمین کی تنخواہیں اور محکموں کے روز مرہ کے اخراجات تک برداشت نہیں کر پارہی، جب کہ کے ایم سی کو دیوالیہ کرنے والے افسران کروڑ پتی بن چکے ہیں اور تمام تر شواہد و شکایات کے باوجود 3 سال کے دوران بدعنوانی میں ملوث کسی بھی افسر کے خلاف کسی قسم کی قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔کے ایم سی کے زیر انتظام کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کے اساتذہ کے مطابق 100 سے زائد اساتذہ کو 4 ماہ سے تنخواہ ادا نہیں کی جارہی، میئر کراچی اور میونسپل کمشنر تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے 3 کروڑ روپے دے رہے ہیں جب کہ ملازمین کی تنخواہیں 4 کروڑ 50 لاکھ روپے ہیں۔ذرائع کے مطابق حکومت سندھ کے ایم سی کو ہرماہ باقاعدگی سے ملازمین کی تنخواہوں کے لئے گرانٹ اور ضلع آکٹرے ٹیکس ادا کر رہی ہے تاہم کے ایم سی کی اپنے زرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی میں کرپشن کی وجہ سے ملازمین کو تنخواہیں ادا نہیں کی جارہیں۔