قاہرہ (نیٹ نیوز) عام طور پر بیلے ڈانس کو فحش ڈانس قرار دیا جاتا ہے، تاہم عرب لوگ اور خاص طور پر مصری لوگ اس ڈانس کو اپنی ثقافت کا حصہ قرار دیتے رہے ہیں، تاہم ساتھ ہی بیلے ڈانسر کو اکثر اوقات نیم عریاں اور انتہائی بولڈ ڈانس کرنے پر تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔ ایسے ہی ایک کیس میں مصر کی مقامی عدالت نے ایک بیلے ڈانسر کو عریانیت اور بدکاری پھیلانے کے الزام میں ایک سال قید کی سزا سنادی۔ مصر کی عدالت نے روسی نژاد مصری بیلے ڈانسر ایکا ترینا اندریوا کو عریانیت و بدکاری پھیلانے سمیت جھوٹ بولنے کے الزامات میں جیل بھیج دیا، روسی نژاد ڈانسر ’جوہارا‘ کے نام سے بھی مشہور ہیں۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- فارم-6 پر الیکشن کمیشن کے متضاد دعوؤں کی جانچ ہونی چاہیے: ادت راج
- ’حکومت کو چاہئے شمشان جیسا سکون‘، شیوسینا-یو بی ٹی نے ’پیس بانڈ‘ پر اٹھائے سوال
- سپریم کورٹ میں ایس آئی آر سے متعلق سماعت ملتوی، 17 نومبر کو ہوگی اگلی سماعت
- ووٹر لسٹ کی غلطی پر اقلیت کے حوالہ والی طنزیہ پوسٹ کا معاملہ، یوپی کے چیف الیکٹورل افسر نے مانگی معافی
- عمر قید کی سزا کاٹ رہے آسارام کی پیرول میں توسیع سے سپریم کورٹ کا انکار
