قاہرہ (نیٹ نیوز) عام طور پر بیلے ڈانس کو فحش ڈانس قرار دیا جاتا ہے، تاہم عرب لوگ اور خاص طور پر مصری لوگ اس ڈانس کو اپنی ثقافت کا حصہ قرار دیتے رہے ہیں، تاہم ساتھ ہی بیلے ڈانسر کو اکثر اوقات نیم عریاں اور انتہائی بولڈ ڈانس کرنے پر تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔ ایسے ہی ایک کیس میں مصر کی مقامی عدالت نے ایک بیلے ڈانسر کو عریانیت اور بدکاری پھیلانے کے الزام میں ایک سال قید کی سزا سنادی۔ مصر کی عدالت نے روسی نژاد مصری بیلے ڈانسر ایکا ترینا اندریوا کو عریانیت و بدکاری پھیلانے سمیت جھوٹ بولنے کے الزامات میں جیل بھیج دیا، روسی نژاد ڈانسر ’جوہارا‘ کے نام سے بھی مشہور ہیں۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- سمندری طوفان ’ارنب‘: ہواؤں کی رفتار 140 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کا امکان، کئی ریاستوں میں الرٹ
- ’ایمرجنگ سائنس، ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن کانکلیو 2026‘ کا آج افتتاح کریں گے وزیر اعظم نریندر مودی
- ایم ایل سی انتخاب: بہار اور یوپی سمیت 4 ریاستوں کی 28 نشستوں پر گنتی شروع، سیکورٹی سخت
- یوٹیوب کا صارفین کی پسندیدہ ویڈیوز کے لیے نیا فیچر
- سمندر میں پلاسٹک تھیلیاں اور کچرا سمندری حیات کی بقا کے لیے خطرہ
