نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں ایسا قانون وضع کرانا چاہتی ہے جس میں والدین کو صرف دو ہی بچے پیدا کرنے کی اجازت ہو۔ اس منصوبے کا انکشاف حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرپرست تنظیم راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت نے اپنے مغربی اُترپردیش کے شہر مراد آباد کے دورے کے دوران تنظیمی کارکنان سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو آر ایس ایس ’’صرف دو بچے‘‘ نامی منصوبے پر عمل کرنا چاہیے اور اس حوالے سے ایسی قانون سازی کی جائے جس کے تحت اس پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جا سکے اور انہیں دیگر حکومتی سہولیات سے محروم کیا جا سکے۔ تنظیم کے رہنما ارون آنند نے جرمن خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ آر ایس ایس کو ملک کی بڑھتی آبادی پر شدید تشویش ہے، لہٰذا اس پر قابو پانا ضروری ہے۔ دریں اثنا بھارت میں مسلم جماعتوں کی وفاقی تنظیم مسلم مجلس مشاورت نے اس متنازع تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبادی پر کنٹرول کے لیے قانون بنانے کی ضرورت نہیں۔ تنظیم کے صدر نوید حامد کے مطابق یہ مسلمانوں کو چڑانے کے لیے آر ایس ایس کی نفرت انگیز سیاست ہے اور یہی ان کا مشن ہے جس کی تکمیل کے لیے ایسے حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- ملک میں اعلیٰ سطح سے ہو رہی ووٹ چوری، گیانیش کمار کے ہٹنے تک لڑائی جاری رہے گی: راہل گاندھی
- ’ہر جگہ بدعنوانی اپنے عروج پر ہے‘، دیواس میں اموات پر جیتو پٹواری نے مدھیہ پردیش حکومت کو بنایا ہدف تنقید
- ایرانی سپریم لیڈر موجتبیٰ خامنہ ای کی صحت پر سوالات، ایرانی اسپیکر نے دیا جواب
- ’ہمیں رام لیلا میدان میں روکا گیا مودی اور امت شاہ کی رہائش گاہوں پر دھرنا دیں گے‘، وینوگوپال کا انتباہ
- ہتک عزتی کے مقدمہ میں بریت پر پرینکا نے کی راہل کی تعریف، کہا- ’جھوٹ کے خلاف کیا ثابت قدمی کا مظاہرہ‘