بغداد (انٹرنیشنل ڈیسک) تُرکی کی جانب سے عراق کے صوبہ کردستان میں جاری آپریشن کے دوران 2 عراقی افسروں اور ایک فوجی کے قتل کے بعد بغداد اور انقرہ کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوگئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق بغداد حکومت نے عراق کی خود مختاری کی خلاف ورزی کرنے پر ترک سفیر کو طلب کر کے شدید احتجاج کیا۔ اس دوران عراقی حکومت نے تُرک وزیر دفاع کو دورہ بغداد کی اجازت دینے سے بھی انکار کر دیا۔ وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ ترکی نے صوبہ کردستان کے علاقے اربیل میں مقام پر ڈرون کے ذریعے بمباری کی، جس کے نتیجے میں عراقی فوج کے 2افسر اور ایک فوجی ہلاک ہو گئے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ترکی بار بار عراق کی سرحدوں کی خلاف وزی کرکے ملکی خود مختاری کو پامال کر رہا ہے۔ بیان میں زور دیا گیا کہ عراقی حکومت اپنی سرزمین کو کسی بھی ہمسایہ ممالک کو نقصان پہنچانے اور دیگر مقاصد کے لیے راہ داری کے طور پر استعمال نہیں کرنے دے گی۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- الیکشن کمیشن کی دہلی اور مہاراشٹر سمیت چھہ ریاستوں میں ووٹر لسٹ کی حتمی تاریخ میں توسیع
- گردابی طوفان ’ارنب‘ سے آندھرا اور اڈیشہ میں تباہی پر پرینکا گاندھی کا اظہار ہمدردی، کئی ریاستوں میں اب بھی موسم اثرانداز
- آئی ڈی بی آئی-فیئر فیکس معاہدہ: ’مودی کے وقت میں پہلے بولی دیکھی گئی، پھر قیمت طے ہوئی‘، راہل گاندھی کا تلخ تبصرہ
- اے آئی اسٹارٹ اپ کا اینتھروپک کے سسٹمز ہیک کرنے کا دعویٰ
- یوٹیوب سے کمائی کی رقم نکلوانے کی حد میں بڑی تبدیلی کی آزمائش