مہنگائی نے روز مرہ کے اخراجات پورے کرنا بھی عام آدمی کے لیے مشکل کر دیا۔
سرکاری رپورٹ کے ہی مطابق ایک سال میں مزدور کی آمدنی میں جتنا اضافہ ہوا کھانے پینے کی
اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی شرح اس سے کئی گنا زیادہ رہی۔
پاکستان ادارہ شماریات کے اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ سال کے دوران ایک مزدور کی آمدنی میں
اوسط 5.3 فیصد اضافہ ہوا۔
تعمیرات کا کام کرنے والے راج کی آمدنی میں 5.2 فیصد، پینٹر کی آمدنی میں 5 فیصد اور پلمبر کی آمدنی
میں اوسطا 6.4 فیصد اضافہ رکارڈ کیا گیا۔
اس دوران مارکیٹ میں کھانے پینے کی بنیادی اشیا میں چکن کی قیمت 67 فیصد بڑھ گئی۔
انڈے 64 فیصد، مصالہ جات 47 فیصد اور آلو 38 فیصد مہنگے ہوئے۔
سال کے دوران گندم کی قیمت میں 24 فیصد، دال مونگ کی 23 فیصد، دال ماش کی 20 فیصد اور گھی کی
قیمت میں 17 فیصد اضافہ رکارڈ کیا گیا۔
چاول کی قیمت 15 فیصد، بریڈ کی 14 فیصد، دہی کی 13 فیصد اور تازہ دودھ کی قیمت 12 فیصد بڑھی۔
روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیا میں کپڑے کی قیمت میں اس دوران 16 فیصد تک اضافہ اور صابن کی قیمت
میں 20 فیصد اضافہ رکارڈ کیا گیا۔