لاہور: پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری نے اعلان کیا ہے کہ رواں برس لاہور میں بسنت منانے کی اجازت صرف تین دن کے لیے دی جائے گی، تاہم اس موقع پر سخت ضابطۂ اخلاق اور سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنایا جائے گا۔
ایک بیان میں عظمیٰ بخاری نے واضح کیا کہ شہر بھر میں بلاامتیاز پتنگ اور ڈور کی فروخت کی اجازت نہیں ہوگی بلکہ مخصوص پوائنٹس پر ہی یہ سامان دستیاب ہوگا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ٹریفک اور ٹرانسپورٹ سے متعلق اداروں سے مکمل پلان طلب کر لیا گیا ہے تاکہ بسنت کے دوران شہریوں کی آمد و رفت کو منظم رکھا جا سکے۔
ان کا کہنا ہے کہ بسنت کو ایک باقاعدہ تہوار کی صورت میں منانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ شہری محفوظ ماحول میں اس روایت سے لطف اندوز ہو سکیں۔
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ تین روزہ بسنت کے دوران شہریوں سے اپیل کی جائے گی کہ وہ موٹر سائیکل کا استعمال کم سے کم کریں، جبکہ بعض حساس علاقوں میں موٹر سائیکلوں کے داخلے پر مکمل پابندی بھی عائد کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جو افراد طے شدہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کریں گے، ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ مستقبل میں اس تہوار کو مزید منظم انداز میں منایا جائے اور آئندہ برس بسنت کو پورے پنجاب میں منانے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بسنت کے موقع پر تعطیل کے حوالے سے فیصلہ بھی جلد سامنے آ جائے گا، تاکہ شہری اس ثقافتی تہوار کو بھرپور انداز میں منا سکیں۔