وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچے کے علاقوں میں سرگرم جرائم پیشہ عناصر کے خلاف جاری آپریشن پوری قوت اور تسلسل کے ساتھ جاری رہنا چاہیے، کیونکہ امن و امان کے قیام کے لیے کسی قسم کی نرمی یا وقفہ ناقابلِ قبول ہے۔
یہ بات انہوں نے نئے تعینات آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو سے ملاقات کے دوران کہی، جہاں وزیرِ اعلیٰ نے سندھ پولیس کی کمان سنبھالنے پر آئی جی سندھ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ ملاقات میں صوبے کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، پولیس کی کارکردگی اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
سید مراد علی شاہ نے اس موقع پر کہا کہ سندھ پولیس کا عوام دوست تشخص بحال کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، جس کے لیے مؤثر اصلاحات اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے سیف سٹی منصوبے کو مزید فعال اور مؤثر بنانے پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے جرائم کی روک تھام میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ نے یقین دلایا کہ حکومت سندھ پولیس کی بہتری، استعداد کار میں اضافے اور وسائل کی فراہمی کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا خاتمہ ریاستی ذمہ داری ہے۔
دوسری جانب وزیرِ داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار سے بھی آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کی ملاقات ہوئی، جس میں صوبے میں جرائم کے سدباب، اسٹریٹ کرائمز اور منظم جرائم کے خلاف مؤثر حکمتِ عملی پر غور کیا گیا۔
اس ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مربوط اقدامات، بہتر انٹیلی جنس اور مؤثر پولیسنگ کے ذریعے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں کو مزید تیز کیا جائے گا تاکہ شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔