واشنگٹن: امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے انکشاف کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے مزید ایرانی آئل ٹینکروں کو تحویل میں لینے کے آپشن پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔
رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس حکمت عملی کا مقصد تہران کی سب سے بڑی آمدن یعنی تیل کی برآمدات کو نشانہ بنانا ہے تاکہ اقتصادی دباؤ کے ذریعے ایران کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔
حکام کے مطابق اس اقدام سے ایرانی معیشت پر نمایاں اثر پڑ سکتا ہے، تاہم اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانا آسان نہیں۔ سب سے بڑا خدشہ ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی ہے جسے امریکی عہدیدار تقریباً یقینی قرار دے رہے ہیں۔
خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ایران خطے میں امریکی اتحادیوں کے آئل ٹینکروں کو نشانہ بنا سکتا ہے یا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا کر عالمی تیل کی ترسیل کو متاثر کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایسا کوئی قدم اٹھایا گیا تو عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں عسکری کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اگر ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کسی معاہدے پر منتج نہ ہوئے تو امریکا خطے میں اضافی فوجی طاقت تعینات کرنے پر غور کرے گا۔
امریکی ذرائع کے مطابق ایک اور ائیرکرافٹ کیریئر اسٹرائیک گروپ بھیجنے کے امکان پر بھی مشاورت جاری ہے۔ اس وقت یو ایس ایس ابراہم لنکن اور اس کا مکمل اسٹرائیک گروپ مشرقِ وسطیٰ میں موجود ہے جس میں جدید جنگی طیارے، ٹوماہاک میزائل اور دیگر بحری جہاز شامل ہیں۔
مبصرین کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری کشمکش نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔