اسلام آباد: پاکستان نے سرحد پار دہشت گردی کے معاملے پر سخت سفارتی اقدام اٹھاتے ہوئے افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا اور افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے پر تشویش کا اظہار کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق یہ قدم حالیہ دہشت گرد حملے کے تناظر میں اٹھایا گیا جس میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار شہید ہوئے، 16 فروری کو باجوڑ میں ہونے والے حملے پر افغان حکومت کو ڈی مارش دیا گیا، جس میں واضح کیا گیا کہ اس واقعے میں 11 پاکستانی فوجی جوان شہید ہوئے اور اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے اس بات پر گہری تشویش ظاہر کی ہے کہ ٹی ٹی پی کی قیادت افغانستان میں موجود ہے اور وہاں سے باآسانی سرگرم عمل ہے، افغان عبوری حکومت نے ماضی میں یقین دہانیاں کرائی تھیں کہ اس کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، پاکستان کو اب تک ایسے کوئی ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات نظر نہیں آئے جو ان وعدوں کی عملی عکاسی کرتے ہوں۔
ترجمان نے زور دیا کہ افغانستان اپنی حدود میں سرگرم تمام دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرے اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرے، پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔