روس نے ایران سے متعلق جاری کشیدگی پر اپنا باضابطہ ردعمل دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ فریقین کے درمیان مذاکراتی عمل جاری رہے گا اور تمام مسائل کے حل کے لیے سفارتی راستہ ہی اختیار کیا جائے گا۔ کریملن کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خطے کی موجودہ صورتحال نہایت حساس ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی مزید بگاڑ سے بچنے کے لیے بات چیت کو جاری رکھنا ناگزیر ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ روس اس معاملے میں براہ راست ثالث کا کردار ادا نہیں کر رہا، اگر ضرورت پیش آئی تو ماسکو اپنی جانب سے تعاون اور مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، روس ہمیشہ سے بین الاقوامی تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کرتا آیا ہے اور ایران کے معاملے میں بھی یہی مؤقف برقرار رکھا جائے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ موجودہ کشیدہ صورتحال میں مذاکراتی عمل کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے کیونکہ اس کے ذریعے نہ صرف خطے میں تناؤ کو کم کیا جا سکتا ہے بلکہ عالمی معیشت پر پڑنے والے ممکنہ منفی اثرات سے بھی بچا جا سکتا ہے، طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دینا ہی دانشمندانہ راستہ ہے۔
کریملن کے مطابق ایران اور دیگر متعلقہ فریقین کے درمیان مسلسل رابطہ اور گفتگو ہی وہ واحد طریقہ ہے جس کے ذریعے دیرینہ اختلافات کو پُرامن انداز میں حل کیا جا سکتا ہے،تمام فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں گے اور اشتعال انگیزی سے گریز کیا جائے گا۔