کراچی: حکومت سندھ کے بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے میں تاخیر سے متعلق اہم انکشاف سامنے آیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ منصوبے کا ڈیزائن ڈھائی سال بعد کنٹریکٹر کو فراہم کیا گیا۔
سندھ ہائی کورٹ میں ریڈ لائن لاٹ ٹو کا دفتر سیل کرنے کے خلاف کنٹریکٹر کی درخواست پر سماعت ہوئی، جہاں عدالت نے معاملے کی جانچ کے لیے ناظر مقرر کر دیا۔
عدالت نے ناظر کو ہدایت کی کہ وہ سائٹ کا دورہ کرکے موجود مشینری کی تفصیلات مرتب کرے اور اپنی رپورٹ پیش کرے، جبکہ ناظر سندھ ہائیکورٹ کی فیس درخواست گزار ادا کرے گا۔
دوران سماعت عدالت نے سائٹ فوری ڈی سیل کرنے کی زبانی استدعا مسترد کر دی اور متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔
عدالت نے ٹرانس کراچی، سندھ حکومت، مختیارکار، پولیس اور ڈپٹی کمشنر ایسٹ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 29 اپریل تک ملتوی کر دی ہے۔