ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

عالمی بینک نے پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک میں بڑھتے بے روزگاری بحران پر خبردار کر دیا

اسلام آباد: پاکستان سمیت دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک میں آنے والے 10 سے 15 برسوں کے دوران کروڑوں نوجوانوں کو ملازمتیں نہ ملنے کا شدید خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے حالیہ سالانہ اجلاس میں اس سنگین صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

صدر عالمی بینک اجے بانگا نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روزگار کا حصول غربت میں کمی لانے کا سب سے موثر اور پائیدار ذریعہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ترقی پذیر ممالک کے لیے اپنی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے تناسب سے ملازمتیں پیدا کرنا انتہائی ناگزیر ہو چکا ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ اگلے ڈیڑھ عشرے میں دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک میں تقریباً 1.2 ارب نوجوان روزگار کے حصول کے لیے مارکیٹ میں داخل ہوں گے۔ پاکستان جیسے ممالک میں آبادی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی شرح کے پیش نظر نوکریوں کے موجودہ مواقع ناکافی ثابت ہو سکتے ہیں۔

عالمی بینک کی جانب سے رکن ممالک کے لیے 80 سے 100 ارب ڈالر تک کی امداد متوقع ہے تاکہ معاشی استحکام لایا جا سکے۔ عالمی مالیاتی اداروں نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ فوری ریلیف کے ساتھ ساتھ طویل مدتی معاشی اصلاحات کا عمل جاری رکھیں تاکہ نجی سرمایہ کاری کو فروغ مل سکے۔

حکام  کی جانب سے نجی شعبے میں سرمایہ کاری کو ملکی ترقی کی اصل کنجی قرار دیا گیا ہے۔ عالمی بینک نے روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے پانچ اہم شعبوں کی نشاندہی کی ہے جن میں توانائی اور انفرااسٹرکچر کے بڑے منصوبے شامل ہیں۔ ان شعبوں میں سرمایہ کاری سے روزگار کی فراہمی میں تیزی لائی جا سکتی ہے۔

سیاحت کے شعبے کو معاشی ترقی کا انجن بنانا بھی ضروری ہے، جبکہ زراعت اور ایگری بزنس میں ملازمتوں کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ اسی طرح صحت کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرکے نوجوانوں کے لیے روزگار کی نئی راہیں کھولی جا سکتی ہیں جو ملک کی مجموعی معاشی صورتحال کو بدلنے میں مددگار ہوگا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں