اسلام آباد: حکومت نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں ٹیکس وصولیوں کا ہدف 15 ہزار 500 ارب روپے سے زائد مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی جی ڈی پی کی شرح نمو کا ہدف 5.1 فیصد رکھنے کی تجویز بھی بجٹ دستاویزات میں شامل کی گئی ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق وزارت خزانہ کے ذرائع نے بتایا کہ بجٹ کی تیاری کا عمل جاری ہے اور مختلف اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے موصول ہونے والی تجاویز کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق یہ اہداف موجودہ ملکی معاشی صورتحال میں انتہائی چیلنجنگ ثابت ہو سکتے ہیں۔
آئی ایم ایف، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے ایک مشترکہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ پاکستان کی معاشی شرح نمو حکومتی اہداف سے کم رہے گی۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا خیال ہے کہ ملکی معیشت کو درپیش چیلنجز کے باعث طے شدہ اہداف کا حصول مشکل ہو گا۔
یاد رہے کہ وفاقی بجٹ آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط اور بینچ مارکس کو سامنے رکھ کر تیار کیا جا رہا ہے۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ آئندہ ماہ آئی ایم ایف کا جائزہ مشن پاکستان پہنچے گا، جس کے بعد بجٹ تجاویز کو حتمی شکل دے کر پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔
ایف بی آر کو رواں مالی سال کے دوران ٹیکس وصولیوں میں بڑے خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے باوجود حکومت نے اگلے سال کے لیے ٹیکس ہدف کو گزشتہ سال کے 14 ہزار 131 ارب روپے سے بڑھا کر ساڑھے 15 ہزار ارب روپے تک پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومتی حکمت عملی کے تحت ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ اس ضمن میں انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ کیا جائے گا تاکہ محصولات کے ہدف کو ممکنہ حد تک حاصل کیا جا سکے اور ملکی معیشت کو مستحکم رکھا جا سکے۔
توقع کی جا رہی ہے کہ جون کے پہلے عشرے میں وفاقی بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ ملک بھر کی نظریں اس بجٹ پر مرکوز ہیں کیونکہ اس سے عام آدمی پر پڑنے والے مالی بوجھ اور ملک کی مجموعی معاشی سمت کا فیصلہ ہوگا۔