اسلام آباد:
ملک میں رجسٹرڈ ایڈز کیسز کی تعداد 84 ہزار ہے، جن میں سے 61 ہزار افراد زیر علاج ہیں ، باقی مریضوں کا سراغ نہیں مل سکا۔
65 ملین ڈالرکے ایڈز پروگرام میں سے 61 اعشاریہ 1ملین ڈالر یو این ڈی پی اور ’’نئی زندگی‘‘ نامی این جی اوکو جاری کیے گئے۔
ان خیالات کا اظہاروفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 2020 میں ملک بھر کے 49 مراکز پر 37 ہزار 944 شہریوں کی اسکریننگ کی گئی جن میں سے 6 ہزار 910 کیسز مثبت آئے۔
بچوں میں ایڈز کے تیزی سے بڑھتے کیسز؛ شعبہ صحت کی سنگین غفلت،اہم انکشافات
ملک میں ایڈز کے مریضوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، قائمہ کمیٹی کا فرضی رپورٹ پر اظہار برہمی
2025 میں ٹیسٹنگ سینٹرز کی تعداد 97 ہوگئی، تاہم 3 لاکھ 74 ہزار 126 ٹیسٹ کیے گئے اور 14 ہزار 182 کیسز مثبت سامنے آئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایڈزقابل علاج ہے اور اس کی ادویات سرکاری مراکز پر مفت دستیاب ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں 10سی سی کی سرنج پر پابندی لگانے جا رہے ہیں، جو سرنج ایک بار استعمال ہو گئی وہ دوبارہ نہیں ہوگی۔

