ایدھی فاؤنڈیشن کے ریکارڈ کے مطابق 2015 میں کراچی میں آنے والی شدید گرمی (ہیٹ اسٹروک) کے باعث جاں بحق افراد کی تعداد 5 ہزار سے زائد تھی، جو سرکاری اعدادوشمار سے کہیں زیادہ ہے۔
یہ دعویٰ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کے زیر اہتمام عالمی یومِ مزدور کے موقع پر منعقدہ سیمینار میں سامنے آیا، جس کا موضوع “ماحولیاتی تبدیلی اور مزدوروں کے حقوق” تھا۔
مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا محنت کش طبقہ ماحولیاتی تبدیلی میں کردار نہ ہونے کے باوجود اس کے شدید اثرات برداشت کر رہا ہے، خاص طور پر شدید گرمی کی لہروں میں سب سے زیادہ متاثر یہی طبقہ ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری طور پر 2015 کی ہیٹ ویو میں تقریباً 300 اموات رپورٹ ہوئیں، تاہم فلاحی اداروں کے مطابق اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی، جس میں بڑی تعداد مزدور طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کی تھی۔
سیمینار میں صحت اور تعلیم سے متعلق دیگر مسائل بھی اٹھائے گئے، جن میں بچوں کی بڑی تعداد کا اسکولوں سے باہر ہونا اور بعض طبی واقعات کی شفاف تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔