ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

اسلام آباد ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ: انجینئر محمد علی مرزا کیس میں اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے کالعدم قرار

اسلام آباد ہائی کورٹ نے انجینئر محمد علی مرزا کے خلاف دی گئی اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا ہے۔

عدالت کی جانب سے جسٹس محسن اختر کیانی کا تبادلے سے قبل 27 اپریل کو جاری کیا گیا تفصیلی تحریری فیصلہ اب منظر عام پر آ گیا ہے۔

فیصلے میں عدالت نے اہم آئینی سوال اٹھایا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کا کسی فرد کے خلاف رائے دینے کا دائرہ اختیار کیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ کونسل کی جانب سے محمد علی مرزا کے خلاف دی گئی رائے اس کے قانونی اختیار سے تجاوز ہے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 229 اور 230 کے تحت اسلامی نظریاتی کونسل صرف پارلیمان، صدر اور گورنرز کو پالیسی نوعیت کی سفارشات دینے کی مجاز ہے جبکہ کسی فرد کے فوجداری کیس میں رائے دینا اس کے دائرہ اختیار میں شامل نہیں۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ کونسل کوئی فیکٹ فائنڈنگ یا عدالتی فورم نہیں اور کسی فرد کی فوجداری ذمہ داری طے کرنا صرف عدالتوں کا اختیار ہے، کسی ادارے کی ایسی رائے ملزم کے منصفانہ ٹرائل کے حق کو متاثر کر سکتی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ جب تک آئینی ترمیم نہیں کی جاتی، اسلامی نظریاتی کونسل اپنے موجودہ مینڈیٹ سے تجاوز نہیں کر سکتی،عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے کونسل کی رائے کو کالعدم قرار دے دیا۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں