ایرانی صدر مسعود پازشکیان نے کہا ہے کہ ایران کی پالیسی باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی دوستانہ تعلقات کو فروغ دینا ہے جبکہ استعمار اور استحصال کی پالیسی کی مستقبل کی دنیا میں کوئی جگہ نہیں ہوگی۔
ایرانی صدر نے کہا کہ ایرانی قوم کی ثقافت میں رواداری کی جڑیں انتہائی گہری ہیں اور ظلم کے خلاف جدوجہد ایران کی تاریخ کا روشن باب رہی ہے، ایران ہمیشہ خطے میں امن، تعاون اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کا حامی رہا ہے۔
دوسری جانب محمد مخبر نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کو “ایٹم بم جیسی طاقت” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اس اہم اسٹریٹجک برتری سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔
محمد مخبر نے کہا کہ ایران نے طویل عرصے تک آبنائے ہرمز میں اپنی جغرافیائی برتری کو نظر انداز کیے رکھا، تاہم اب تہران اس اہم طاقت کی اہمیت کو پوری طرح سمجھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایک ایسا مقام ہے جہاں ایک فیصلہ عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہ،آبنائے ہرمز ایک ایسا موقع ہے جو ایٹم بم جتنا قیمتی ہے”، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل اسی بحری راستے سے گزرتا ہے۔
محمد مخبر نے مزید کہا کہ ایران حالیہ جنگ اور کشیدگی کے دوران حاصل ہونے والے فوائد سے دستبردار نہیں ہوگا اور آبنائے ہرمز کے موجودہ نظام میں تبدیلی لانے کی کوشش کرے گا، چاہے یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کے تحت ہو یا پھر یکطرفہ طور پر۔