فلوریڈا: امریکی ریاست فلوریڈا کے ساحل کے قریب بحر اوقیانوس میں ایک نجی طیارہ گر کر تباہ ہو گیا تاہم اس حادثے میں سوار تمام 11 مسافر معجزانہ طور پر محفوظ رہے اور انہیں ریسکیو ٹیموں نے بحفاظت سمندر سے نکال لیا۔
یہ طیارہ بہاماس سے فلوریڈا جا رہا تھا کہ میلبورن کے ساحل سے تقریباً 80 میل دور تکنیکی خرابی کے باعث سمندر میں جا گرا۔ طیارے کے گرتے ہی ایمرجنسی لوکیشن سگنلز متحرک ہو گئے جس سے حکام کو حادثے کی اطلاع فوری طور پر موصول ہو گئی۔
اطلاع ملتے ہی امریکی کوسٹ گارڈ اور فضائیہ کے اہلکار فوری طور پر امدادی کارروائیوں کے لیے روانہ ہو گئے۔ اس مشن میں امریکی ایئر فورس کے میجر الزبتھ پیواٹی نے حصہ لیا اور تمام افراد کے زندہ بچ جانے کو ایک انسانی عقل سے بالاتر معجزہ قرار دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ریسکیو آپریشن کے دوران ایئر فورس کے ایک کومبیٹ کنگ طیارے نے شدید خراب موسم اور طوفان کے خدشات کو نظر انداز کرتے ہوئے سمندر میں موجود مسافروں کی لائف رافٹ کو تلاش کر لیا۔ حکام نے متاثرین تک فوری طور پر خوراک اور حفاظتی سامان پہنچایا۔
بحفاظت نکالے گئے تمام مسافروں کی طبی حالت اب بہتر بتائی جا رہی ہے۔ ریسکیو ٹیموں کی بروقت کارروائی نے ایک بڑے انسانی المیے کو جنم لینے سے روک لیا۔ حکام نے واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
ابتدائی تحقیقات میں اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ 2 انجنوں والے اس ٹربو پروپ طیارے کو دورانِ پرواز کن تکنیکی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ حکام نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ جدید مواصلاتی آلات کی مدد سے مسافروں کا فوری سراغ لگانا ممکن ہوا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کھلے سمندر میں طوفانی حالات کے باوجود ریسکیو آپریشن کی کامیابی انتہائی قابل تعریف ہے۔ اس حادثے نے ایک بار پھر بحری و فضائی نگرانی کے نظام کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے جس کی بدولت انسانی جانوں کا ضیاع ہونے سے بچ گیا۔