جیکب آباد میں پسند کی شادی کے بعد پیش آنے والے گاؤں جلانے کے واقعے پر لڑکی کے والد رفیق چنہ کا مؤقف سامنے آگیا ہے، جس میں انہوں نے واقعے سے متعلق الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انصاف کی اپیل کی ہے۔
رفیق چنہ کا کہنا ہے کہ ان کی دو بیٹیوں کو مبینہ طور پر مسلح افراد رات کے وقت اسلحے کے زور پر اغوا کرکے لے گئے، جن میں ایک بیٹی کی عمر چودہ سال اور دوسری کی عمر چار سال ہے۔ ان کے مطابق یہ دعویٰ کہ پسند کی شادی ہوئی، حقیقت کے برعکس ہے اور ان کی بیٹیوں کو زبردستی لے جایا گیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ واقعے کے دوران نہ صرف ان کے گاؤں پر فائرنگ کی گئی بلکہ ان کے گھر والوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، اگر ان کی بیٹی کی عمر چودہ سال ہے تو اس کی شادی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، لہٰذا اسے پسند کی شادی قرار دینا درست نہیں۔
لڑکی کے والد نے یہ بھی کہا کہ برڑو برادری کے گھروں کو آگ لگنے کے واقعے میں ان کے خاندان کا کوئی کردار نہیں ہے، انہیں اس بات کا علم بھی نہیں کہ آگ کس نے لگائی، جبکہ ان کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
دوسری جانب پولیس کے مطابق واقعے میں برڑو برادری کے گھروں کو جلانے کے الزام میں چنہ برادری کے بتیس افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، جن میں سے پانچ افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
ایس ایس پی جیکب آباد فیضان علی کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گاؤں صدیق آرائیں اور گاؤں غازی خان چنہ کے جوڑے نے حیدرآباد کی عدالت میں پسند کی شادی کی تھی، جس کے بعد مبینہ طور پر مخالف فریق کی جانب سے گاؤں کو آگ لگانے کا واقعہ پیش آیا۔
واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی برقرار ہے جبکہ پولیس مزید تحقیقات کر رہی ہے اور دیگر ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔