مشرقی جمہوریہ کانگو ایک بار پھر مہلک ایبولا وائرس کی شدید لپیٹ میں آ گیا ہے، جہاں وبا تیزی سے پھیلنے لگی ہے اور ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 131 ہو گئی ہے۔ صورتِ حال کے سنگین رخ اختیار کرنے پر عالمی ادارہ صحت نے عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 26 مشتبہ اموات رپورٹ کی گئی ہیں، جس کے بعد متاثرہ علاقوں میں خوف و ہراس کی فضا مزید گہری ہو گئی ہے، اب تک 516 مشتبہ مریض سامنے آ چکے ہیں جبکہ 33 افراد میں وائرس کی باقاعدہ تصدیق ہو چکی ہے۔
وبا کے پھیلاؤ نے پڑوسی ممالک کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ یوگنڈا میں بھی 2 تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہونے کے بعد سرحدی نگرانی سخت کر دی گئی ہے اور بعض مقامات پر نقل و حرکت محدود بنا دی گئی ہے تاکہ وائرس کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسس نے اس وبا کو عالمی سطح کی صحت ایمرجنسی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وائرس کی رفتار تشویشناک حد تک بڑھ رہی ہے، خصوصاً ایسے علاقوں میں جہاں پہلے ہی بدامنی، نقل مکانی اور کمزور طبی سہولیات موجود ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس مرتبہ ایبولا کی جو قسم سامنے آئی ہے وہ “بونڈی بوگیو اسٹرین” کہلاتی ہے، جسے نسبتاً نایاب اور پیچیدہ تصور کیا جاتا ہے، یہ وائرس خاموشی سے گنجان آباد اور شورش زدہ علاقوں میں پھیلتا رہا، جس کے باعث ابتدائی مرحلے میں اس کی بروقت نشاندہی ممکن نہ ہو سکی۔
رپورٹس کے مطابق شہری علاقوں میں بھی مریض سامنے آنے کے بعد خطرات مزید بڑھ گئے ہیں، کیونکہ ایسے مقامات پر آبادی کا دباؤ اور نقل و حرکت وائرس کے پھیلاؤ کو تیز کر سکتی ہے۔
امریکی ادارہ برائے انسداد امراض کے مطابق ایک امریکی شہری بھی وائرس سے متاثر ہوا ہے جبکہ بعض مریضوں کو خصوصی علاج کیلئے جرمنی منتقل کیا جا رہا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مخصوص قسم کے ایبولا وائرس کے خلاف مؤثر ویکسین اور علاج کی دستیابی محدود ہے، تاہم عالمی ادارہ صحت اور دیگر بین الاقوامی تحقیقی ادارے ہنگامی بنیادوں پر نئی ویکسین اور علاج کی تیاری پر کام کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ ایبولا ایک انتہائی خطرناک وائرس ہے جو جسمانی رطوبتوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے اور اس کی شرح اموات اوسطاً 50 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ کانگو ماضی میں بھی ایبولا کی کئی مہلک وباؤں کا سامنا کر چکا ہے، جہاں ہزاروں افراد اس بیماری کے باعث اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔