اسلام آباد: آئی ایم ایف سے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی نئی قسط موصول ہونے کے بعد پاکستان کے زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر 22 ارب 58 کروڑ 85 لاکھ ڈالر کی بلند سطح پر پہنچ چکے ہیں۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اقتصادی ماہرین کا کہناہ ے کہ اس اہم پیشرفت سے ملکی معاشی اعشاریوں میں بہتری کے واضح اشارے ملے ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں ان اعدادوشمار کی تصدیق کی ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق 15 مئی 2026 تک ان کی اپنی تحویل میں موجود زرمبادلہ کے ذخائر کی مالیت 17 ارب 8 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تک ریکارڈ کی گئی ہے اور حالیہ اضافہ معیشت کے لیے خوش آئند ہے۔
دریں اثنا ملک میں کام کرنے والے کمرشل بینکوں کے پاس موجود زرمبادلہ کے خالص ذخائر کی صورتحال بھی مستحکم نظر آتی ہے۔
اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس اس وقت 5 ارب 50 کروڑ 75 لاکھ ڈالر کے ذخائر موجود ہیں جو ملکی معاشی استحکام کا تسلسل ہیں۔
مرکزی بینک نے وضاحت کی کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کی بنیادی وجہ آئی ایم ایف کی توسیعی سہولت اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے تحت ملنے والی رقوم ہیں۔ اس کے علاوہ پانڈا بانڈز کے اجراء سے حاصل ہونے والی سرمایہ کاری نے بھی ان ذخائر کو مستحکم کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔
اسٹیٹ بینک نے مزید کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے ساتھ ساتھ پاکستان نے مقررہ وقت کے دوران اپنے بیرونی قرضوں کی اقساط کی ادائیگی کا عمل بھی جاری رکھا ہے۔ قرضوں کی ادائیگی کے باوجود مجموعی ذخائر کا 22 ارب ڈالر سے تجاوز کرنا ملکی مالیاتی ساکھ کے لیے مثبت اقدام ہے۔
ماہرین کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے ملنے والی فنڈنگ اور بانڈز کے اجراء سے ملکی معیشت کو سہارا ملا ہے۔ اس اضافے سے نہ صرف درآمدات کے لیے ادائیگیوں میں آسانی ہوگی بلکہ روپے کی قدر کو مستحکم رکھنے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
پاکستان کی معاشی ٹیم اس وقت بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں یہ بہتری ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک کو درپیش معاشی چیلنجز پر قابو پانے کے لیے طویل المدتی پالیسیوں پر کام کیا جا رہا ہے۔