واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کے لیے پاکستان کا ثالثی کردار انتہائی قابل تعریف اور اہم ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ پاکستانی حکام آج ایران کا اہم دورہ کر رہے ہیں۔
خبر رساں اداروں کے مطابق مارکو روبیو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں ہونے والی بات چیت سے کافی مثبت اشارے ملے ہیں ۔ مذاکرات میں محدود سطح پر پیش رفت بھی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی وفد جنگ بندی کے مجوزہ مسودے پر بات چیت کے لیے ایران روانہ ہو چکا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے محتاط انداز اپناتے ہوئے کہا کہ اگرچہ وہ ضرورت سے زیادہ پُرامید نہیں ہونا چاہتے، تاہم آئندہ چند دنوں میں صورتحال واضح ہو جائے گی۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کے بعد پاکستان کی جانب سے کی جانے والی سفارتی کوششوں میں مزید تیزی آئی ہے۔
دریں اثنا وزیر داخلہ محسن نقوی گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2 بار ایران کا دورہ کر چکے ہیں، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقاتوں میں کشیدگی کے خاتمے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق پاکستان کئی ہفتوں سے امریکا اور ایران کے درمیان پیغام رسانی اور درمیانی راستہ تلاش کرنے میں مصروف ہے۔
اُدھر قطر سمیت دیگر خلیجی ممالک بھی مشرق وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہ رہے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی متعدد مواقع پر پاکستان کی کوششوں کو سراہا ہے اور ملکی قیادت کے لیے تعریفی کلمات کہے ہیں۔ اب پوری دنیا کی نظریں پاکستانی وفد کے اس دورے پر ہیں، جس سے خطے میں امن کی نئی راہیں کھلنے کی امیدیں پیدا ہو گئی ہیں۔
پاکستان کا یہ کردار خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے، جس پر بین الاقوامی سطح پر اعتماد کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ یہ مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے میں کامیاب رہیں گے، جس سے مشرق وسطیٰ میں طویل مدتی استحکام کی راہ ہموار ہوگی۔