واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کے ٹول ٹیکس یا فیس کے نفاذ کی اجازت ہرگز نہیں دے گا اور اسے ایک آزاد بین الاقوامی آبی گزرگاہ کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کرنے کی ممکنہ تجویز پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اس وقت امریکا کو آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل ہے، کیونکہ امریکی بحری ناکہ بندی مکمل طور پر مؤثر ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی طاقت اس فولاد کی دیوار کو عبور کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔
دوسری جانب ایران کی پاسداران انقلاب کی بحریہ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 31 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے بخیریت گزرے ہیں۔ ایرانی حکام پہلے ہی یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ دباؤ بڑھنے کی صورت میں ٹول عائد کیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے دنیا کی سب سے اہم سمندری گزرگاہ ہے، جہاں سے تیل کی عالمی تجارت کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس راستے پر کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کے بحران کا سبب بن سکتی ہے۔
ماضی میں ایران کی جانب سے اس گزرگاہ پر پابندیاں عائد کرنے کے بعد عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھا گیا تھا۔ اس آبی گزرگاہ کی اہمیت کے پیش نظر عالمی برادری کی نظریں امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی پر لگی ہوئی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ایران کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس اب بہت کم وقت باقی بچا ہے، اس لیے بہتر ہے کہ وہ جلد از جلد امن معاہدہ کر لیں۔ امریکا کسی بھی صورت عالمی تجارت کے اس اہم راستے کو غیر محفوظ اور متنازع نہیں بننے دے گا۔