منشیات فروشی اور مبینہ منی لانڈرنگ کے سنگین مقدمات میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کو علاج کی غرض سے اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے جبکہ محکمہ داخلہ سندھ نے اس سلسلے میں سخت حفاظتی انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملزمہ انمول پنکی کو انتہائی سخت نگرانی میں جیل سے نکال کر سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن منتقل کیا جائے گا۔ محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے متعلقہ حکام کو ارسال کیے گئے خط میں واضح کیا گیا ہے کہ انمول عرف پنکی کی جیل سے باہر آمدورفت کے دوران غیر معمولی حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں، لہٰذا ملزمہ کی محفوظ تحویل اور منتقلی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
رپورٹ کے مطابق ملزمہ کے خلاف مجموعی طور پر 23 مقدمات درج ہیں، جن میں منشیات فروشی، مالی بے ضابطگیوں اور مشتبہ رقوم کی منتقلی سمیت دیگر سنگین الزامات شامل ہیں۔
دوسری جانب تحقیقاتی اداروں کی جانب سے جاری تفتیش میں اہم پیش رفت بھی سامنے آئی ہے۔ ابتدائی مالی جانچ اور ڈیجیٹل فرانزک رپورٹ میں کروڑوں روپے کی مبینہ منی لانڈرنگ اور مشکوک مالی لین دین کے شواہد ملنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق تحقیقات کا دائرہ مسلسل وسیع کیا جا رہا ہے اور مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اس معاملے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے، انسدادِ منشیات فورس اور مختلف بینکوں سے رابطے مزید تیز کر دیے ہیں تاکہ مالی لین دین کی مکمل تفصیلات حاصل کی جا سکیں۔
رپورٹس میں یہ بھی بتایا کہ کیس میں بعض کاروباری شخصیات، شوبز سے وابستہ معروف افراد اور چند اعلیٰ سرکاری عہدے داروں کو بھی شاملِ تفتیش کیے جانے کا امکان موجود ہے۔ تاہم اس حوالے سے تاحال کسی سرکاری سطح پر نام ظاہر نہیں کیے گئے۔
تحقیقات میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ انمول عرف پنکی کے مختلف بینک کھاتوں میں گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران کروڑوں روپے کی رقوم منتقل ہوئیں۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق صرف ایک بینک کھاتے سے تقریباً 3 کروڑ روپے کی منتقلی کا سراغ ملا ہے۔
ذرائع کے مطابق منشیات فروشی سے حاصل ہونے والی تقریباً 2 کروڑ 94 لاکھ روپے کی رقم مختلف کھاتوں میں منتقل کی گئی، جبکہ دستاویزی شواہد میں کاروباری اور بیرونِ ملک موجود کھاتوں میں بھی لاکھوں روپے کی منتقلی ریکارڈ کی گئی ہے۔ مزید مالی تفصیلات اور رقوم کی مکمل چھان بین کے لیے تحقیقاتی ٹیم نے اسٹیٹ بینک سے بھی ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔