(2 اکتوبر 2026): ایک ماہ کے شیر خوار بچے کو کئی بار بیچ دیا گیا اس مکروہ عمل میں شریک والدین سمیت 7 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
شیر خوار بچے کی ایک ماہ میں کئی بار خرید وفروخت کا شرمناک واقعہ بھارت کے علاقے اورنگ آباد میں سامنے آیا ہے جہاں سب سے پہلے نومولود کو اسی کے والدین نے فروخت کیا تھا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق معاملہ اورنگ آباد کے مکندواڑی علاقے سے شروع ہوا جہاں بچے کے والدین نے اپنے ایک ماہ کے بچے کو مبینہ طور پر سیما ریشوال نامی ایک درمیانی خاتون کے حوالے کر کے اس کے بدلے 1 لاکھ 20 ہزار روپے حاصل کیے۔
تفتیش کاروں کے مطابق بچے کے والدین نے مبینہ طور پر اس رقم سے 2 مہنگے موبائل فون اور سونے کی ایک چین خریدی۔
تحقیقات آگے بڑھنے پر پولیس کو معلوم ہوا کہ والدین سے بچے کو حاصل کرنے کے بعد اس کا مزید کئی مرتبہ سودا کیا گیا اور ہر مرحلے پر اس کی قیمت بڑھتی گئی۔
پولیس کے مطابق سیما ریشوال نے بچے کو پڈے گاؤں کی رہنے والی سنگیتا آوہاڑ کو 2 لاکھ 70 ہزار روپے میں فروخت کیا۔ اس کے بعد سنگیتا آوہاڑ بچے کو ناندیڑ لے گئی، جہاں اسے 3 لاکھ 50 ہزار روپے میں سریش گنتوکا کے حوالے کیا گیا۔ پولیس نے سریش گنتوکا کو ایک فرضی ڈاکٹر قرار دیا ہے۔
تفتیش کاروں کے مطابق بچے کی خرید و فروخت کا سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ سریش گنتوکا نے بعد میں بچے کو اپنے ایک رشتہ دار اوما کھٹکم کے حوالے کردیا، جو حیدرآباد کی رہنے والی ہے۔ اس سودے میں بھی بچے کے لیے 3 لاکھ 50 ہزار روپے کی رقم بتائی گئی ہے۔
ایک ماہ قبل نومولود کو مبینہ طور پر اس کے والدین نے ایک لاکھ 20 ہزار روپے میں فروخت کیا، جس کے بعد یہ بچہ آگے مزید زائد قیمت پر کئی افراد کو بیچا گیا اور ہر سودے میں بچے کی قیمت بڑھتی گئی۔
رپورٹ کے مطابق پولیس نے خرید و فروخت کے واقعات کا سراغ لگاتے ہوئے بچے کو حیدرآباد دکن سے بازیاب کرا لیا جب کہ واقعے میں ملوث بچے کے والدین سمیت 7 افراد کو گرفتار کر کے ان سے تفتیش شروع کر دی ہے۔
پولیس اب اس بات کی بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ کہیں یہ معاملہ شیر خوار بچوں کی اسمگلنگ میں ملوث مہاراشٹر اور تلنگانہ میں سرگرم کسی بین الریاستی نیٹ ورک سے تو نہیں ملتا۔