ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

’آپ کے ساتھ کھڑا ہونا میری ذمہ داری‘، راہل نے اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کی حمایت میں شروع کیا ’ستیہ گرہ‘ پورٹل

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے اپنے مطالبات کو لے کر احتجاج کرنے والے لوگوں، اداروں اور گروپوں کی مدد کے لیے ایک بڑی پہل کی ہے۔ راہل گاندھی نے ان کی مدد کے لیے ’ستیہ گرہ‘ نام سے ایک ویب سائٹ لانچ کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف مطالبات کو لے کر ملک کے کونے کونے میں احتجاج ہو رہے ہیں اور حزب اختلاف کے قائد کی حیثیت سے میری ذمہ داری ہے کہ ان کی آواز کو صحیح جگہ تک پہنچایا جائے۔

راہل گاندھی نے مہاتما گاندھی کی یوم پیدائش کے موقع پر یہ شروعات کی اور اس سے متعلق ویب سائٹ کا لنک بھی شیئر کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک ویڈیو جاری کر کہا کہ ’’ملک بھر میں لوگ اپنے حق کے لیے لڑ رہے ہیں اور اکثر اکیلے لڑ رہے ہیں۔ جین زی، طلبہ، کسان، آدیواسی، دلت خواتین، ہر جدوجہد کی اپنی کہانی ہے۔ لیکن جو آواز اکیلی اٹھتی ہے وہ اکثر دب جاتی ہے۔ ’ستیہ گرہ‘ انہی آوازوں کو ایک نقشہ پر ساتھ لانے کی پہل ہے۔ باپو نے یہی سکھایا تھا، سچ سب سے بڑا ہتھیار ہے، لیکن اس سے بھی بڑا ہتھیار ہے، متحد ہو کر سچ کے ساتھ کھڑا ہونا۔‘‘

کانگریس رہنما راہل گاندھی مزید کہتے ہیں کہ ’’اگر آپ بھی کسی ناانصافی کے خلاف لڑ رہے ہیں تو اپنی کہانی بھیجے 2 منٹ لگیں گے۔ آپ کی کہانی نقشے پر آئے گی۔ آپ دیکھیں گے کہ آپ کی طرح اور کون کون لڑ رہا ہے۔ اور میں جو کر سکتا ہوں کروں گا، پارلیمنٹ میں، سڑک پر، خط لکھ کر اور جہاں بھی میری ضرورت ہو وہاں آپ کے ساتھ کھڑے ہو کر۔ حزب اختلاف کے قائد کے طور پر یہی میری ذمہ داری ہے۔‘‘ سوشل میڈیا پوسٹ کے آخر میں راہل گاندھی نے ویب پورٹل کا لنک دے کر لکھا کہ ’’اپنے ستیہ گرہ کی کہانی مجھے یہاں بتائیں۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ راہل گاندھی نے جمعہ (2 اکتوبر) کو ملک کے مختلف حصوں میں احتجاج کر رہے لوگوں کی حمایت میں آواز بلند کیا تھا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا تھا کہ ’’آج گاندھی جینتی ہے۔ اور آج ہی ہزاروں نوجوان ووٹ چوری کے خلاف سڑکوں پر ہیں، پُرامن طریقے سے، بغیر تشدد کے، اپنے آئینی حق کا استعمال کرتے ہوئے۔ ان کا مطالبہ واضح ہے، گیانیش کمار استعفیٰ دیں۔ جمہوریت بچاؤ۔ اور مودی-شاہ حکومت کا جواب؟ لڑکے اور لڑکیوں کو سڑکوں پر گھسیٹا جا رہا ہے۔ سینکڑوں حراست میں ہیں۔ ان کا قصور صرف یہ ہے کہ انہوں نے ووٹ چوری پر سوال اٹھایا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا تھا کہ ’’باپو نے یہی سکھایا تھا کہ سچ بولو، پُرامن طریقے سے لڑو۔ اور یہی چیز حکومت کو سب سے زیادہ خوفزدہ کرتی ہے۔ کیونکہ لاٹھی سے بھیڑ کو روکا جا سکتا ہے، سوال کو نہیں۔‘‘ پوسٹ کے آخر میں انہوں نے لکھا کہ ’’گیانیش کمار جائیں گے۔ اور جس نظام نے انہیں اس عہدے پر بٹھایا ہے، وہ بھی جائے گا۔‘‘

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں