واشنگٹن (15 اکتوبر 2026): برطانوی شہری کو مارنے والے شیر سے کُشتی کرنے کی عجیب وغریب اے آئی ویڈیو شیئر کرنا امریکی صدر ٹرمپ کو مہنگا پڑ گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئے دن اے آئی سے مستفید ہوتے ہوئے اپنی نت نئی اور مضحکہ خیز ویڈیوز شیئر کرتے رہتے ہیں۔ تاہم حال ہی میں انہیں یہ اقدام بہت مہنگا پڑا ہے۔
برطانوی شہری کو چیر پھاڑ کر ہلاک کرنے والے شیر کے ساتھ اے آئی کے ذریعے کُشتی کرنے کی ویڈیو شیئر کرنے پر انہیں عالمی سطح پر خفت اور شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا رہا ہے۔
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب امریکی صدر نے ڈونکاسٹر کے یارکشائر وائلڈ لائف پارک میں 23 سالہ ولیم چیپ مین کی جان لینے والے دل دہلا دینے والے واقعے کا ایک خاموش ویڈیو کلپ پوسٹ کیا۔
متوفی نوجوان کے اہل خانہ اور مقامی پولیس کی جانب سے عوام سے پریشان کن فوٹیج نشر نہ کرنے کی اپیل کے باوجود ٹرمپ نے یہ ویڈیو دوبارہ پوسٹ کی۔
امریکی صدر نے مذکورہ واقعے کی 41 سیکنڈ طویل ویڈیو بغیر آواز کے دوبارہ شیئر کی۔ ویڈیو میں ٹائیگر نوجوان کی گردن کے پچھلے حصے کو دانتوں سے پکڑ کر اسے زمین پر گراتا دکھائی دیتا ہے۔ نوجوان مزاحمت کرتا ہے تو جانور اپنے پنجوں سے اس کی ٹانگوں پر وار کرتا ہے۔
صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ٹرمپ نے اس ویڈیو پر کمنٹس دیتے ہوئے لکھا کہ ’’قدرت کے ساتھ کبھی مت الجھیں!‘‘
اس ویڈیو کے بعد ٹرمپ نے اسی خونخوار شیر کے ساتھ برطانیہ میں ایک مہلک حملے کی حقیقی زندگی کی فوٹیج پوسٹ کرنے پر بڑے پیمانے پر مذمت کے بعد، صدر نے ایک خیالی کلپ شیئر کیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک برطانوی وائلڈ لائف پارک میں ایک مہلک شیر کے حملے کی حقیقی زندگی کی فوٹیج شیئر کرنے کے بعد بین الاقوامی ردعمل کو جنم دیا ہے، جس کے بعد AI سے تیار کردہ ایک عجیب و غریب ویڈیو شیئر کی، جس میں انہوں نے خود کو اس درندے کے ساتھ کُشتی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
اس فرضی ویڈیو میں ٹرمپ نے خود کو شیر کا پیچھا کرتے، اسے زمین پر گراتے اور کُشتی کرتے اور مسکراتے ہوئے شیر کو گلے لگاتے ہوئے دکھایا ہے۔
امریکی صدر کی جانب سے یہ ویڈیو شیئر کرتے ہی سوشل میڈیا پر دنیا بھر سے شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا اور ٹرمپ کے اس عمل کو متوفی نوجوان کے اہلخانہ کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف قرار دیا ہے۔