اہم فیصلہ، گورنر راج کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے منظور، نوٹس جاری۔
پشاور ہائیکورٹ کا داخلی منظر جہاں ڈپٹی سپیکر کے گھر کی ڈی سیلنگ اور گورنر راج کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی۔
پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا میں ڈپٹی سپیکر صوبائی اسمبلی ثریا بی بی کے گھر پر پولیس چھاپے اور اسے سیل کرنے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے انتظامیہ کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا ہے اور گھر کو فوری طور پر ڈی سیل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے پولیس کو ڈپٹی سپیکر کو تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کرنے سے بھی روک دیا ہے۔
عدالت عالیہ کے جسٹس اعجاز انور اور جسٹس محمد فہیم ولی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ثریا بی بی کو سال 2024 میں سرکاری گھر الاٹ ہوا تھا، جبکہ 11 اکتوبر کو صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی گئی اور 14 اکتوبر کو ان کے گھر پر غیر قانونی چھاپہ مار کر اسے سیل کر دیا گیا۔ وکیل نے دلائل دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے دوران بھی سپیکر ہاؤس کو سیل نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس اور دیگر متعلقہ حکام سے آئندہ سماعت پر جواب طلب کر لیا ہے۔
دوسری جانب پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف دائر کردہ دیگر اہم درخواستوں کو بھی سماعت کے لیے مقرر کر لیا ہے۔ چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر اور محمود خان اچکزئی کی جانب سے دائر ان درخواستوں میں صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قرارداد اور اس کے اعلامیے کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔
سماعت کے دوران بیرسٹر گوہر نے عدالت سے استدعا کی کہ صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو معطل کیا جائے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ایک ہی دن میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا گیا، اسی روز ایڈوائزری کونسل تشکیل دی گئی، صوبے میں 38 ڈپٹی کمشنر تبدیل کیے گئے اور جماعت کے 12 اراکین قومی اسمبلی اور 13 اراکین صوبائی اسمبلی کو حراست میں لیا گیا۔ کیس کے دوران معروف قانون دان سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ صوبائی حکومت کی پیشگی اجازت کے بغیر گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ نہیں کی جا سکتی۔ عدالت نے تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد اٹارنی جنرل کے دفتر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے اور کیس کی سماعت 10 نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔