کانگریس کے سینئر لیڈر اور رکن راجیہ سبھا اجے ماکن نے مرکزی حکومت کی اڑان (یو ڈی اے این) اسکیم پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ جولائی 2026 تک چھوٹے شہروں کو فضائی رابطے فراہم کرنے کے لیے شروع کیے گئے 679 روٹس میں سے 331 پر پروازیں بند ہو چکی تھیں۔ ان کے مطابق، یہ مجموعی روٹس کا تقریباً 48.7 فیصد ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 165 روٹس پر سبسڈی کی تین سالہ مدت مکمل ہونے سے پہلے ہی پروازیں بند ہو گئیں۔
اجے ماکن نے بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 20 اکتوبر 2026 کو اڑان اسکیم کے دس سال مکمل ہونے کے موقع پر حکومت کے پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی) کی جانب سے جاری پس منظر نوٹ میں شروع کیے گئے روٹس کی تعداد تو بتائی گئی، لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ ان میں سے کتنے روٹس پر اس وقت پروازیں چل رہی ہیں۔
ماکن کے مطابق، شہری ہوابازی کی وزارت نے جولائی 2026 میں راجیہ سبھا میں تحریری جواب دیتے ہوئے بتایا تھا کہ اڑان اسکیم کے آغاز سے 10 جولائی 2026 تک مجموعی طور پر 679 روٹس شروع کیے گئے تھے، لیکن جواب دیے جانے کے وقت صرف 348 روٹس پر پروازیں جاری تھیں۔ اس طرح 331 روٹس پر فضائی خدمات دستیاب نہیں تھیں۔
انہوں نے کہا کہ اڑان اسکیم کا آغاز 21 اکتوبر 2016 کو اس وعدے کے ساتھ کیا گیا تھا کہ چھوٹے شہروں میں بھی عام شہریوں کے لیے سستی اور قابل عمل فضائی خدمات فراہم کی جائیں گی۔ اسکیم کے نام یو ڈی اے این کا پورا مطلب ’اڑے دیش کا عام ناگرک‘ ہے، یعنی ملک کا عام شہری بھی ہوائی سفر کر سکے۔
اجے ماکن نے کہا کہ ان روٹس پر پروازیں جاری رکھنے کے لیے حکومت ایئرلائنز کو وائبیلٹی گیپ فنڈنگ (وی جی ایف) کے نام سے مالی مدد فراہم کرتی ہے۔ اس کے باوجود شہری ہوابازی کی وزارت نے جولائی 2026 میں راجیہ سبھا کو بتایا تھا کہ 165 روٹس پر سبسڈی کی تین سالہ مدت ختم ہونے سے پہلے ہی خدمات بند کر دی گئی تھیں۔
انہوں نے اس معاملے میں کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی 2023 کی آڈٹ رپورٹ کا بھی حوالہ دیا۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اڑان اسکیم کا مقصد ایسا فضائی رابطہ قائم کرنا ہے جو مستقل طور پر سرکاری سبسڈی پر منحصر نہ رہے۔ ماکن کے مطابق، سی اے جی نے اسکیم کے ابتدائی تین مراحل میں نیلامی کے ذریعے مختص کیے گئے 774 روٹس کا جائزہ لیا تھا۔ آڈٹ میں سامنے آیا کہ مارچ 2023 تک تین سالہ سبسڈی کی مدت ختم ہونے کے بعد ان میں سے صرف 54 روٹس پر پروازیں جاری تھیں۔ یہ تعداد مجموعی روٹس کا محض 7 فیصد تھی۔
اجے ماکن نے ان اعداد و شمار کی بنیاد پر حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹے شہروں کے لیے شروع کیے گئے 165 روٹس پر سبسڈی کی مدت پوری ہونے سے پہلے ہی فضائی خدمات بند ہو گئیں۔
انہوں نے اپنی پوسٹ میں شہری ہوابازی کی وزارت کے راجیہ سبھا میں دیے گئے تحریری جواب، سی اے جی کی آڈٹ رپورٹ، 21 اکتوبر 2016 کو اسکیم کے آغاز کے وقت جاری سرکاری بیان اور 20 اکتوبر 2026 کے پی آئی بی نوٹ کا حوالہ دیا۔
اڑان اسکیم کا بنیادی مقصد علاقائی فضائی رابطے کو فروغ دینا اور عام شہریوں کے لیے ہوائی سفر کو قابل رسائی بنانا ہے۔ تاہم، ماکن کے پیش کردہ اعداد و شمار نے اس سوال کو نمایاں کیا ہے کہ سرکاری سبسڈی کے ذریعے شروع کیے گئے روٹس پر طویل مدت تک پروازیں جاری رکھنے میں کس حد تک کامیابی حاصل ہوئی ہے۔