’’کانگریس کے وقت میں آئی ڈی بی آئی بنا، ملک کی صنعت کھڑی کرنے کے لیے۔ مودی کے وقت میں پہلے بولی دیکھی گئی، پھر قیمت طے ہوئی۔ کانگریس کے وقت میں بینک بنتے تھے، مودی کے وقت میں فروخت ہوتے ہیں۔ میں آئی ڈی بی آئی بینک کے ملازمین کے ساتھ کھڑا ہوں۔‘‘ یہ پیغام آج راہل گاندھی نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری کیا ہے، جس کے ساتھ 29 اکتوبر کو دستخط شدہ ایک ’اوپن میسج‘ بھی شیئر کیا گیا ہے، جو کہ آئی ڈی بی آئی بینک ملازمین کے نام ہے۔
دراصل مرکز کی مودی حکومت نے آئی ڈی بی آئی بینک کو فروخت کرنے کی راہ ہموار کر دی ہے، جس کے خلاف لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے آواز بلند کی ہے۔ انھوں نے آئی ڈی بی آئی بینک فیملی کے اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ ’’گزشتہ سال مارچ میں آپ کے ایک گروپ نے پارلیمنٹ ہاؤس میں مجھ سے ملاقات کی تھی۔ آپ نے مجھ سے ایک سادہ سا سوال پوچھا تھا: حکومت اس بینک کو کیوں فروخت کر رہی ہے جسے آپ نے منافع بخش بنایا ہے؟ میں نے یہ سوال لوک سبھا میں اٹھایا۔ میں نے پوچھا کہ ایک منافع بخش سرکاری بینک کو کیوں فروخت کیا جا رہا ہے اور اس کے ملازمین اور کھاتہ داروں کے مفادات کا تحفظ کس طرح کیا جائے گا؟ حکومت نے اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔ اب اس نے آئی ڈی بی آئی بینک کو کناڈا کی کمپنی فیئرفیکس کو فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘
وہ اپنے پیغام میں آگے لکھتے ہیں کہ ’’آئی ڈی بی آئی نے ایک ترقیاتی بینک کے طور پر اپنی شروعات کی تھی۔ ایک تجارتی بینک بننے کا اس کا سفر مشکل رہا ہے، لیکن آپ نے ان چیلنجز کا سامنا کیا۔ 7 سال قبل آئی ڈی بی آئی خسارے میں تھا۔ گزشتہ سال اس نے 9 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا منافع کمایا۔ اس کی یہ کامیابی آپ کی محنت کا نتیجہ ہے۔‘‘ وہ آگے لکھتے ہیں کہ ’’عوام کے پیسے سے قائم ہونے والا ادارہ عوام ہی کا ہوتا ہے۔ آج حکومت اور ایل آئی سی کی اس بینک میں 95 فیصد حصہ داری ہے۔ فروخت کے بعد ان کی حصے داری گھٹ کر 34 فیصد رہ جائے گی۔‘‘
یہ بھی پڑھیں :
آئی ڈی بی آئی-فیئر فیکس معاہدہ پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ’’2003 میں حکومت نے پارلیمنٹ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ آئی ڈی بی آئی میں ہمیشہ کم از کم 51 فیصد حصہ داری برقرار رکھے گی۔ یہ وعدہ اگرچہ قانون کا حصہ نہیں بنایا گیا، لیکن پارلیمنٹ سے کیا گیا وعدہ ہندوستان کے عوام سے کیا گیا وعدہ ہوتا ہے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’جب آئی ڈی بی آئی کی ملکیت پرائیویٹ ہاتھوں میں چلی جائے گی تو ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی امیدواروں کے لیے ریزرویشن بھی ختم ہو جائے گا۔ آپ کی ملازمت کی شرائط، جو پہلے ہی کمزور کی جا چکی ہیں، اپنے آخری تحفظ سے بھی محروم ہو جائیں گی۔‘‘
تحریری پیغام کے آخر میں راہل گاندھی لکھتے ہیں کہ ’’کانگریس ہمیشہ سے ایک مضبوط سرکاری شعبہ کی حامی رہی ہے، جو پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ مل کر کام کرے۔ سرکاری بینک فروخت کرنے کے لیے محض ’اثاثے‘ نہیں ہیں، بلکہ یہ ملک کی تعمیر کے ذرائع ہیں۔‘‘ آئی ڈی بی آئی بینک کے کارکنان سے مخاطب ہوتے ہوئے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’آپ نے مجھ سے اپنے ساتھ کھڑے ہونے کی اپیل کی تھی۔ آج میں آپ کی جدوجہد میں آپ کے ساتھ کھڑا ہوں اور آپ کے تمام جائز مطالبات کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔‘‘ انھوں نے سبھی سے اتحاد برقرار رکھنے اور اپنے عزم پر قائم رہنے کی اپیل بھی کی۔