ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

فاروق ستار گروپ کے انٹرا پارٹی الیکشن غیر قانونی ہیں‘متحدہ رابطہ کمیٹی

حیدر آباد زونل کمیٹی کو تحلیل کردیا گیا، تنظیم کو تقسیم کرنیوالے سازشی عناصر کے عزائم کو ناکام بنایا جائے
فاروق ستار کو مشیر گمراہ کررہے ہیں، کارکنان کو متحدرہنے کی ہدایت،ترجمان
کراچی(اسٹاف رپورٹر) متحدہ کی رابطہ کمیٹی کے ترجمان نے فاروق ستار گروپ کے انٹرا پارٹی الیکشن کو غیر قانونی اور غیر تنظیمی قرار دیتے ہوئے حیدر آباد زونل کمیٹی کو تحلیل کردیا اور تمام مخلص کارکنان سے اپیل کی ہے کہ وہ تنظیم کو مستقل تقسیم کرنے کی اس مذموم کوشش کے پس پردہ کرداروں کے عزائم کو اپنے اتحاد سے ناکام بنادیں۔ ترجمان نے کہا کہ رابطہ کمیٹی کی دو تہائی اکثریت کی وجہ سے الیکشن کمیشن نے پارٹی ٹکٹ جاری کرنے کیلئے رابطہ کمیٹی کا فیصلہ مانتے ہوئے ڈاکٹر خالد مقبول کا اختیار تسلیم کیا۔ پارٹی کے آئین میں اختلافات کو حل کرنے کا طریقہ بھی درج ہے اور کسی بھی عدالت جانے سے پہلے وہی طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔ بد قسمتی سے ڈاکٹر فاروق ستار کے مشیر انہیں گمراہ کررہے ہیں اور آج ایم کیو ایم پاکستان میں مستقل تقسیم کی بنیاد رکھنے کی مذم کوشش کررہے ہیں جسے تمام مخلص کارکنان مسترد کرتے ہیں۔ ترجمان نے میڈیا سے بھی درخواست کی کہ وہ بغیر قانونی اورتنظیمی مینڈیٹ پی آئی بی میں ہونیوالی کارروائی کو ایم کیو ایم پاکستان کا انٹرا پارٹی الیکشن پکارنے سے گریز کرے۔ علاوہ ازیں خصوصی اجلاس میں رابطہ کمیٹی نے حیدر آباد زونل کمیٹی کو تحلیل کردیا اور تمام ذمہ داران و کارکنان کو ہدایت کی ہے کہ وہ تحلیل شدہ حیدر آباد زونل کمیٹی سے کسی قسم کا ربطہ نہ رکھیں اور سندھ تنظیمی کمیٹی کے انچارج مسعود محمود سے بہادر آباد مرکز پر رابطے میں رہیں۔

نا م نہاد انٹرا پارٹی الیکشن کی کوئی حیثیت نہیں ٗ فاروق ستار پچھتائیں گے ٗ ایم کیو ایم بہادر آباد گروپ
فاروق ستار بھائی کو نوٹس میں آگاہ کردیا کہ یہ عمل غیر آئینی ہے ٗ وہ ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ نہیں ہیں اور صرف سربراہ ہی جنرل باڈی اجلاس بلا سکتا ہے ٗ غیر قانونی انٹرا پارٹی الیکشن میں لوگوں نے حصہ نہیں لیا ٗ کنور جمیل
الیکشن کمیشن میں پارٹی سربراہ کی تبدیلی کیلئے درخواست دی ہے ٗ جلد ایم کیو ایم کا جھنڈا اور انتخابی نشان جھنڈا خالد مقبول صدیقی کو منتقل ہوجائے گا ٗ فاروق ستار بھائی مسلسل غلط بیانی کررہے ہیں ٗ امین الحق ٗ کشور زہرا اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس
کراچی (اسٹاف رپورٹر) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے ڈپٹی کنوینر کنور نوید جمیل نے کہا ہے کہ پی آئی بی میں ہونے والا نام نہاد انٹر ا پارٹی الیکشن کی کوئی حیثیت نہیںاور اس کیلئے ہم نے فاروق ستار بھائی کو براہِ راست بھی اور نوٹس کے ذریعے بھی آگاہ کیا کہ یہ عمل غیر قانونی اور غیر آئینی ہے ،اب فاروق ستار بھائی ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ نہیں ہیں اور یہ حق صرف سربراہ کا ہوتا ہے کہ وہ جنرل باڈی بلا سکے ۔ان خیالات کااظہارانہوںنے اتوار کی شام ایم کیوایم پاکستان کے عارضی مرکزواقع بہادرآباد میں رابطہ کمیٹی کے اراکین امین الحق ، اسلم آفریدی ، عبد القادر خانزادہ ، شاہد علی ، شکیل احمد ، ارشاد ظفیر ، زاہد منصوری ، کشور زہرا ، محمد ذاکر اور گلفراز خان خٹک کے ہمراہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ کنور نوید جمیل نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ عجلت میں کرائے جانے والے غیر آئینی انٹرا پارٹی الیکشن میںلوگوں نے حصہ نہیں لیابلکہ عوام ، پی ایس پی اور حقیقی کو بھی کہا گیا ہے کہ وہ بھی اپنے کارکنوں کو بھیجیں اور آپ نے دیکھا کہ فاروق بھائی نے یہ بات میڈیا پر بھی کہی ہے اس کے علاوہ فاروق ستار بھائی اپنے فون سے لوگ کو مسیج کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ انٹرا پارٹی الیکشن میں وہی کارکنان ووٹ ڈالتے ہیں جو لسٹ الیکشن کمیشن آفس میں جمع ہوتی ہے ، بھونڈے طریقے سے انٹرا پارٹی الیکشن کرائے جارہے ہیں ، کراچی میں رابطہ کمیٹی کیلئے الیکشن میں 35نام ہیں اور حیدرآباد میں جو بیلٹ پیپر استعمال ہورہا ہے رابطہ کمیٹی کیلئے اس میں 45نام ہیں ۔انہوں نے کہاکہ فاورق بھائی اس لائن پر بہت پہلے چل پڑے تھے ، لیکن ہم لوگوں تنظیم کے اندر کی باتیں چھپانے کی کوشش کرتے رہے ، کامران ٹیسوری کے آنے کے بعد کئی ماہ پہلے سے فاروق ستار بھائی اس راہ پر چل پڑے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ رابطہ کمیٹی ،ایم کیوایم کے آئین کے مطابق سپریم باڈی ہے اس کی یہ ذمہ داری تھی کہ ہر ایک ایسے عمل سے تنظیم کو بچایاجائے جس سے تنظیم کے تقسیم ہونے یا کمزور ہونے کا خدشہ ہو یہی وجہ یہ کہ سب سے پہلے فاروق ستار بھائی نے آئین میں ایک غیر قانونی تبدیلی کرتے ہوئے اپنے پاس ایک ڈکٹیٹر کے اختیارات لے لئے اور وہ الیکشن کمیشن میں جمع کروائے گئے ہم پر اس کا انکشاف 8نومبرکوغیر معمولی حالات اور جگہ پر ہوا کہ فاروق ستار بھائی یہ عمل کرچکے ہیں، یہ بھی انکشاف ہوا کہ افاروق ستار بھائی مسلسل کامران ٹیسوری کے گھر پر پی ایس پی کے رہنمائوں انیس قائم خانی اور دیگر سے ملاقاتیں کرتے رہے ہیں ہم نے اس پر انہیں تنبہ کی اور کوشش کی کہ یہ تمام باتیں میڈیا پر نہ آئیں اور عام لوگوں تک نہ پہنچیں۔انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی میں شہداء کے گھر والوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے یہ رابطہ کمیٹی اراکین بہت سینئر ہیں بلکہ ان کے گھر سے جان ، مال کی قربانیاں بھی ہیں شامل ہیں ان رابطہ کمیٹی کے اراکین میں محمد حسین ، راشد سبزواری ، فیصل سبزواری ، شاہد ، زاہد منصوری بھائی اور عامر خان شامل ہیں رات تک سب اس بات کے گواہ ہیں کہ ہم بار بار فاروق ستار بھائی کے پاس جاتے رہے ہیں اور ان سے گزارش کرتے رہے اور جب ان کے ایک غیر قانونی اور غلط عمل کو روکنے کیلئے ان کو کنوینر شپ سے ہٹا بھی دیا گیا تھا اس کے بعد بھی ہم ان سے یہ درخواست کرتے رہے کہ آپ بہادرآباد آئیں اور کنوینر شپ سنبھالیں لیکن فاروق ستار بھائی نہیں آئے فاروق ستار بھائی مسلسل میڈیا میں غلط بیانی کررہے ہیںکہ ایم کیوایم کا جھنڈا ، پتنگ کا نشان ان کے پاس ہے حالانکہ الیکشن کمیشن پہلے ہی رابطہ کمیٹی کی درخواست پر فاروق ستار بھائی سے یہ اختیار لیکر خالد مقبول صدیقی بھائی کو دے چکا ہے اور اب جو الیکشن کمیشن آف پاکستان میں پارٹی لیڈر کی تبدیلی کیلئے جو ایم کیوایم نے درخواست دی ہے یہ پروسیس میں ہے جلد ہی چار پانچ دن میں یہ پروسیس مکمل ہوتے ہی یہ جھنڈا ایم کیوایم کا نام اور ایم کیوایم کا انتخابی نشان پتنگ خالد مقبول صدیقی بھائی کو شفٹ ہوجائے گا ۔ انہوں نے کہاکہ فاورق ستار بھائی نے تنظیم کے مختلف جگہوں پر اپنے ذاتی دوستوں کو اہم پوزیشن دیں اورآج نہیں تو کل اپنے اس عمل پر فاورق بھائی کو پشیمانی ہوگی اور ان کا سیاسی نقصان بھی ہوگا ۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے ووٹر ، سپورٹرز ، شہداء کے گھر والوں کو اور کارکنان کو اس بات پر یقین ہونا چاہئئے کہ فاروق ستار بھائی کا یہ عمل تنظیم کو تقسیم تو نہیں کرسکتا بلکہ انشاء اللہ یہ تنظیم کو زیادہ مضبوط اور طاقتو ر بنا دے گا۔

سینیٹ الیکشن‘ ایم کیو ایم کے 5 ارکان پی پی کو ووٹ دینے پر آمادہ
اندرونی اختلافات کے باعث دونوں دھڑوں بہادر آباد اور پی آئی بی کالونی کے رہنمائوں کے پی پی سے رابطے
کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک) متحدہ پاکستان کے دونوں گرپوں نے سینیٹ انتخابات کیلئے پیپلز پارٹی سے رابطہ کیا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے5 ارکان اسمبلی نے اندرونی اختلافات کے باعث پیپلز پارٹی کو سینیٹ الیکشن میں ووٹ دینے پر آمادگی کااظہار کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سندھ سے سینیٹ الیکشن کی تمام نشستوں پر پیپلز پارٹی کے امید واروں کو کامیاب کرانے کی حکمت عملی تیار کرلی ہے اور وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ سینیٹ انتخابات کے معاملات کی خود نگرانی کررہے ہیں۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے دونوں دھڑے بہاد آباد اور پی آئی بی کالونی کے رہنما پیپلز پارٹی سے رابطے میں ہیں۔ پیپلز پارٹی کو تمام نشستوں پر کامیابی کیلئے اپوزیشن جماعتوں کے15 ووٹ درکار ہوں گے۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کے متحد نہ ہونے پر سندھ کی12نشستوں میں سے10 پر پیپلز پارٹی کی کامیابی یقینی ہے۔

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں