
نوا زشریف نے بھائی کو سربراہ بنانے کیلئے پارٹی کے دیگر رہنمائوں کے ساتھ مشاورت مکمل کرلی ن لیگ کی جانب سے سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف نظر ثانی اپیل دائر نہ کرنے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے
الیکشن کمیشن نے سینیٹ الیکشن کیلئے مسلم لیگ ن کی درخواست مسترد کردی ٗ کاغذات جمع کرانے والے لیگی امیدوار آزاد حیثیت سے سینیٹ کا الیکشن لڑ سکیں گے ٗ چیئرمین کو ٹکٹ جاری کرنے کا اختیار ہے ٗ راجہ ظفر الحق
کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن) اپنی زندگی کے بد ترین نشیب و فراز سے گزررہی ہے‘ سپریم کورٹ کی جانب سے نواز شریف کو پارٹی صدر کے عہدے سے نااہل قرار دیئے جانے کے بعد مسلم لیگ ( ن) نے پارٹی کی صدارت شہباز شریف کو سونپنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صدر کیلئے رسمی منظوری سینیٹ الیکشن کے بعد منعقد ہونے والے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں لی جائیگی۔ اس حوالے سے نواز شریف نے دیگر رہنمائوں کے ساتھ مشاورت بھی مکمل کرلی ہے۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام یا مستقل صدر انتخاب شہباز شریف ہی ہوں گے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ (ن) لیگ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف نظر ثانی اپیل دائر نہ کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جبکہ مشاورت میں کلثوم نواز اور مریم نواز کا نام بطور پارٹی صدر کسی بھی سطح پر زیر غور نہیں آیا۔ نواز شریف کی مسلم لیگ (ن) میں حیثیت قائد کی ہوگی‘ الیکشن کمیشن نے سینیٹ الیکشن کیلئے مسلم لیگ (ن ) کی درخواست مسترد کردی جس کے بعد مسلم لیگ (ن) بطور سیاسی جماعت سینیٹ الیکشن سے آئوٹ ہوگئی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے امید وار آزاد حیثیت سے سینیٹ الیکشن لڑ سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ پی پی30 سرگودھا کے ضمنی انتخابات میں بھی مسلم لیگ (ن) کا امید وار آزاد حیثیت میں ہی الیکشن لڑسکے گا ۔ واضح رہے کہ راجہ ظفر الحق نے مسلم لیگ (ن) کے امید واروں کو اپنے نام سے ٹکٹ جاری کرنے کی درخواست کی تھی۔ اس حوالے سے نواز شریف نے دیگر رہنمائوںکے ساتھ مشاورت بھی مکمل کرلی ہے۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام یا مستقبل صدر انتخاب شہباز شریف ہی ہوں گے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ (ن) لیگ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف نظر ثانی اپیل دائر نہ کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جبکہ مشاورت میں کلثوم نواز اور مریم نواز کا نام بطور پارٹی صدر کسی بھی سطح پر زیر غور نہیں آیا۔ نواز شریف کی مسلم لیگ (ن) میں حیثیت قائد کی ہوگی۔