
سابق ایس ایس پی ملیر اور 2 ایس ایچ اوز سمیت 16 ملزمان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کیلئے خط ارسال
نقیب اللہ محسود معصوم شہری تھا، جسے بے گناہ مارا گیا، پولیس افسران اس میں ملوث ہیں، آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کی میڈیا سے گفتگو
کراچی(کرائم رپورٹر) آئی جی سندھ اللہ ڈنو خواجہ نے کہا ہے کہ نقیب اللہ معصوم شہری تھا جسے بے گناہ مارا گیا، میڈیا سے بات کرتے ہوئے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے کہا کہ نقیب اللہ کیس کا کوئی دفاع نہیں کرسکتا، پولیس افسران اس کیس میں ملوث ہیں۔تفصیلات کے مطابق نقیب محسود قتل کیس میں ملوث سابق ایس ایس پی ملیر رائو انوار احمد اور 2 ایس ایچ اوز سمیت 16 ملزمان کی گرفتاری کیلئے تمام ملکی اداروں کو الرٹ جاری کردیا گیا جبکہ ملزمان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کیلئے بھی خط لکھ دیا گیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق نقیب قتل کیس میں مطلوب ملزمان میں سے 10 گرفتار کئے جاچکے ہیں جبکہ سابق ایس ایس پی ملیر رائو انوار احمد سمیت 16 ملزمان کی فہرست تمام ملکی اداروں کو جاری کردی گئی ہیں۔ ملزمان میں رائو انوار احمد، سب انسپکٹر امان اللہ مروت، ان کے بھائی اے ایس آئی احسان اللہ مروت، سب انسپکٹر شعیب شوٹر، محمد انار، اے ایس آئی گدا حسین سرگانی، خیر محمد، علی اکبر، ہیڈ کانسٹیبلز صداقت حسین شاہ، فیصل محمود، عامر شاہ، کانسٹیبلز محسن عباس، راجہ شمیم، عمران کاظمی، ریاض احمد اور دیگر شامل ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے ملنے والے احکامات پر ملٹری انٹیلی جنس ، آئی ایس آئی، انٹیلی جنس بیورو، ایف آئی اے، رینجرز اور ایف سی سے ملزمان کی گرفتاری کیلئے مدد دینے کا کہا گیا ہے۔ سندھ پولیس کی جانب سے وفاقی وزارت داخلہ اور تمام صوبائی سیکریٹری داخلہ کو فہرست اور خط روانہ کردیئے گئے، گلگت، بلتستان سمیت چاروں صوبوں کے آئی جیز کو بھی خط لکھ دیا گیا ہے۔