
عدالتوں میں پیش کرنے کیلئے 300 روپے میں 3 قیدیوں کو ایک جبکہ 500 روپے دینے پر علیحدہ ہتھکڑی لگائی جاتی ہے
پیسے نہ دینے پر قیدی کو برہنہ کرکے پائپ سے تشدد کیا جاتا ہے اور بغیر پیشی کے واپس جیل روانہ کردیا جاتا ہے
کراچی (کرائم رپورٹر) آج صبح سٹی کورٹ میں پیشی پر آنے والے قیدی کی لاک اپ پولیس کے خلاف سنسنی خیز انکشافات کی ویڈیو بھی منظر عام پر آگئی۔ جس میں قیدی محمد ایاز کا کہنا ہے کہ کراچی سینٹرل جیل سے سٹی کورٹ لایا جاتا ہے جہاں پر لاک اپ پولیس عدالتوں میں پیش کرنے سے پہلے رشوت کا مطالبہ کرتے ہیں اور 3 قیدیوں سے 300 روپے لے کر ایک ساتھ ہتھکڑی لگائی جاتی ہے جبکہ 500 روپے دینے پر ایک علیحدہ سے ہتھکڑی لگا کر VIP میں شامل کیا جاتا ہے جبکہ لاک اپ میں جس قیدی کے پاس پیسے نہیں ہوتے اسے برہنہ کرکے لاک اپ میں رکھے ہوئے پائپ سے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور عدالتوں میں ان قیدیوں کو پیش کیا جاتا ہے جو قیدی پیسے دیں اور جو قیدی پیسے نہ دیں اسے لاک اپ سے واپس جیل روانہ کر دیا جاتا ہے۔