
واٹر بورڈ کے سرکاری آڈٹ شروع ہوتے ہی حقیقت کھل کر سامنے آگئی، غائب گاڑیوں کو پیٹرول اور ڈیزل کی فراہمی روک دی گئی
افسران گذشتہ 11 برس سے کروڑوں گیلن پیٹرول اور ڈیزل مفت حاصل کرکے سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچارہے تھے
کراچی (وقائع نگار خصوصی) ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے 7 افسران کے واٹر بورڈ کی 10 گاڑیوں اور 3 بنگلوں پر 11 برس سے قابض ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ واٹر بورڈ کا سرکاری آڈٹ شروع ہونے پر حقیقت کھل کر سامنے آئی ہے اور ادارے نے غائب گاڑیوں کو پیٹرول اور ڈیزل کی فراہمی روک دی ہے۔ واٹر بورڈ کی گاڑیوں اور بنگلوں پر قابض لوگوں میں وہ بھی شامل ہیں جو ریٹائر ہو چکے ہیں یا جنہیں ادارہ نکال چکا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق لندن میں مقیم ایم کیو ایم لندن کا کارکن قاسم علی رضا سرکاری گاڑی لے کر غائب ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ 2008ء میں آغا سراج درانی جب صوبائی وزیر بلدیات بنے تھے تو انہوں نے بحیثیت چیئرمین واٹر بورڈ اپنے پی ایس ذوالفقار علی مہر کے نام پر ایک پراڈو، 2 پجارو اور ایک پوٹھوہار جیب الاٹ کرائی تھی یہ گاڑیاں کئی برسوں تک واٹر بورڈ کے اکائونٹ سے سرکاری پیٹرول و ڈیزل لیتی رہی ہیں، ابھی تک یہ گاڑیاں واٹر بورڈ کو واپس نہیں کی گئی ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان رابطہ کمیٹی کا رکن خالد سلطان بھی سرکاری گاڑی لے کر غائب ہے اور تاحال واٹر بورڈ کے بنگلے پر قابض ہے، جبکہ انیس ایڈوکیٹ کا بھائی خلیق احمد بھی طویل عرصے سے غیر حاضر ہے لیکن سرکاری گاڑی اور بنگلہ اس کے قبضے میں ہے۔ ایک اور سیاسی رہنما آصف حفیظ بھی سرکاری گاڑی لے کر غائب ہے۔ واٹر بورڈ کے 2 افسران شاہد علی رضوی اور عدنان احمد نے بھی واٹر بورڈ کی سرکاری گاڑیاں واپس نہیں کی ہیں۔