
شہر میں ٹھیلوں کو ختم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں، انہیں نظم و ضبط میں لانے کی ضرورت ہے، ٹھیلوں کے نام پر تجاوزات قائم کرنے کی اجازت نہیں، کمشنر کراچی
سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر رکاوٹ بننے والے ٹھیلوں کیخلاف کارروائی کریں گے، پرائم انسٹی ٹیوٹ کے تحت سیمینار سے افتخار شالوانی کا خطاب
کراچی (اسٹاف رپورٹر) کمشنر کراچی افتخار شالوانی نے کہا ہے کہ کراچی میں جمعہ اور اتوار بازار کے بعد اب شہر میں رات بازار بھی لگانے پر غور کیا جارہا ہے جبکہ کراچی میں ٹھیلوں کو ختم کرنے کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں، البتہ انہیں نظم و ضبط میں لانے کی ضرورت ہے تاکہ شہر میں ان کی وجہ سے ٹریفک کے مسائل پیدا نہ ہوں اور ٹھیلے روزگار کے نام پر تجاوزات قائم نہ کریں۔ وہ جمعہ کو کراچی میں مقامی ہوٹل میں تحقیقی ادارہ پرائم انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام منعقدہ سیمینار سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر پرائم انسٹی ٹیوٹ کے نمائندے احمد بشیر، بینش جاوید، عروج کامران، کراچی کی مختلف جامعات کے شعبہ معاشیات کے پروفیسرز اور غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندوں نے خطاب کیا۔ کمشنر نے کہاکہ قانون میں ٹھیلوں کے ذریعے کاروبار کرنے کی اجازت ہے لیکن انہیں مستقل کسی جگہ پر تجاوزات قائم کرکے یا ٹریفک میں رکاوٹ بن کر کام کرنے کی اجازت نہیں۔ انہوں نے کہاکہ متعلقہ بلدیاتی ادارے ٹھیلوں کو نظم و ضبط میں لانے کے لیے اقدامات کررہے ہیں انتظامیہ بھی کوشش کر رہی ہے ایسی جگہوں پر کاروبار کی اجازت نہ دے جہاں ان کی وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر ہو یا شہریوں کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑے۔ انہوں نے کہاکہ سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر رکاوٹ بننے کی اجازت نہیں دی جاسکتی انہوں نے کہاکہ دنیا کے مختلف ممالک میں رجسٹرڈ ٹھیلوں اور پہیوں والی گاڑیوں کے ذریعے کاروبار کرنے کی اجازت ہے ان کے لیے ضروری ہے وہ متعلقہ ادارے سے رجسٹریشن کرائیں، وہ رجسٹریشن کا نمبر ان کے ٹھیلوں یا گاڑی پر درج کیا جاتا ہے، انہوں نے کہاکہ کراچی میں صدر اور مختلف مقامات پر رات بازار لگانے پر غور کیا جارہا ہے کمشنر نے کہا کہ پرائم انسٹی ٹیوٹ کا اسٹریٹ وینڈر منصوبہ پر تحقیق ایک مثبت کوشش ہے۔